The Latest

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کی جانب سے ملک کے معروف اہلحدیث عالم دین مولانا اسحاق مدنی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے۔ اس سلسلے میں وحدت ہاوس پشاور میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرحوم مولانا اسحاق مدنی کی مغفرت کیلئے دعا کی گئی۔ اس موقع پر ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ مولانا اسحاق مدنی صرف اہل حدیث مسلک میں ہی  نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے ہر مسلمان کیلئے قابل احترام شخصیت تھے۔ مرحوم نے اتحاد بین المسلمین کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے ہر موقع پر امت مسلمہ کے مفادات کو ترجیح دی اور حق بات ببانگ دہل کہی۔ مجلس وحدت مسلمین مولانا اسحاق مدنی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ اور ان کی وفات پر اہلخانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

وحدت نیوز (آزادجموں کشمیر) قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کا عظیم الشان اجتماع دفاع وطن کنونشن کے عنوان سے 8ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا، پورے ملک کی طرح آزاد کشمیر کے تمام اضلاع سے محب وطن کارکنوں کے قافلے شریک ہوں گے، شہید حسینی ملت جعفریہ کے وہ عظیم قائد تھے جنھوں نے اپنی جان وطن عزیز کی نظریاتی و فکری سرحدوں اور آئین و قانون پاکستان کے تحفظ کے لیئے قربان کر دی، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سید سرفراز حسین کاظمی و مجلس وحدت مسلمین میرپور کے سیکرٹری جنرل سید محمد رضا شاہ بخاری نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید قائد صیح معنوں میں اتحاد بین المسلمین کے داعی اور انقلاب اسلامی کے لیئے کوشاں تھے ، آپ کی خواہش تھی کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے تصور کے مطابق اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر اُبھرے، اس کے لیئے انہوں نے ہمیشہ اور ہر سٹیج پر آواز اُٹھائی ، پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرونفوذ کے خلاف علم بلند کرنے کی وجہ سے ضیاء الحق نے طاغوت اور استعمار کی خوشنودی کے لیئے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے آپ کو شہید کروا دیا، سید سرفراز کاظمی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجلس وحدت مسلمین شہید حسینی کے افکار کے مطابق ان کے مشن کی تکمیل کے لیئے کوشاں ہے، اب جب کہ وطن عزیز دہشتگردی ، فرقہ واریت ، علاقائی و لسانی تعصبات، بھتہ مافیا جیسی موذی امراض کا شکار ہو چکا ہے، ایسے میں دفاع وطن کنونشن وقت کی اہم ضرورت اور وطن کی آواز ہے، سید محمد رضا شاہ بخاری نے کہا کہ ہم مرکزی اور ریاستی قائدین کی ہر کال پر لبیک کہتے ہوئے دفاع وطن کنونشن میں ضلع میرپور سے بڑے قافلے کے ساتھ برسی کے پروگرام اور دفاع وطن کنونشن میں شرکت کریں گے۔

وحدت نیوز (گلگت ) بھکر میں رونما ہونے والے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، حکومت خود کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ رنا ثناءاللہ اور کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ بھکر میں حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل شیخ نیر عباس مصطفوی نے اپنے ایک خباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھکر میں بے گناہ علماء اور مومینن کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دہشت گرد بھکر کے حالات خراب کرنے میں مصروف تھے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنیجدہ نہیں ہے، جس کے باعث آئے روز ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اگر ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر دہشتگردوں کیخلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔
 
ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کے خلاف امریکہ کا حملہ امریکہ کی بربادی کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام میں دہشت گردوں کو امریکی منصوبے کے تحت لایا گیا، مگر اب امریکہ کی بربادی قریب ہے۔ شام میں مزارات اقدس کی حفاظت کرنا ہماری شرعی ذمہ داری ہے۔ گلگت بلتستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت اور انتظامیہ دہشتگردوں کی آمد کی خبریں دیتے ہیں، مگر دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں اُٹھاتے، جس کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نانگاہ پربت اور چلاس میں آرمی کے جوانوں کی شہادت کے بعد اگر حکومت کوئی ٹھوس اقدامات اٹھاتی اور دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرتی، تو آج گلگت شہر میں پولیس کے جوان اور بے گناہ شہری قتل نہ ہوتے۔ انکا مزید نے مزید کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ کی غلط پالیسی کی وجہ سے آئے روز حالات خراب ہو رہے ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک ) شام مشرق وسطٰی میں فلسطین پر ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلمانوں کی جنگ میں فرنٹ لائن ہے۔ لبنانی شیعوں کی جماعت حزب اللہ اور فلسطینی سنی مسلمانوں کی تنظیم حماس دو ایسی قوتیں ہیں جو اسرائیل کے وجود کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں ہونے والی بے عزتی کا بدلہ برطانوی سامراج نے یہودی سرمایہ داروں کی مدد سے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے کرکے لیا۔ سلاطین ترکی کی بادشاہت کے خاتمے میں سعود اور آل خلیفہ خاندان نے برطانوی سامراج کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا۔ عالم اسلام کی مرکزیت ختم ہوگئی اور مسلم دنیا ٹکڑوں میں بٹ گئی، جس کے نتیجے میں فلسطین پر یہودی قابض ہوگئے۔ اس وقت سے ناجائز صہیونی ریاست عالم اسلام میں سامراجی مفادات کی محافظ بن گئی۔ دنیا کی اہم گذر گاہوں، تجارتی رستوں، گرم پانیوں اور تیل کی دولت سے مالا مال علاقوں پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ناجائز اسرائیلی ریاست کا وجود امریکہ اور مغربی دنیا کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالم عرب اسرائیلی افواج کے ساتھ جنگ میں کئی بار شکست کھا چکا ہے۔ مصر کے آمروں سے لیکر خلیجی ممالک کے شہنشاہوں تک اسرائیل سے سمجھوتہ کرچکے ہیں۔

عرب خطے میں فقط حزب اللہ اور حماس ایسی طاقتیں ہیں جو بار بار اسرائیلی افواج کو ہزیمت سے دوچار کرچکی ہیں۔ لبنان اور فلسطین کے شیعہ سنی مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی حلیف اور مفادات کی محافظ قوت کو زوال پذیر دیکھ کر مغربی طاقتیں مایوسی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ پچھلی نصف صدی میں امریکہ کی حلیف خلیجی ممالک میں عرب شہنشاہتیں مسلسل استعماری بلاک کا حصہ رہنے کی وجہ سے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت سے دست کشی اختیار کرچکی ہیں۔ اپنے غیر جمہوری اقتدار کو باقی رکھنے کے لیے امریکہ کا سہارا لینی والی ان مسلمان ریاستوں کی باگ ڈور مکمل طور پر مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس کا سارا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں براہ راست اسرائیل کی حامی اور مدد گار ہیں، لیکن شام کے علاوہ تمام عرب ممالک حماس اور حزب اللہ کے مخالف ہیں۔ حماس اور حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف کامیاب جنگوں میں کسی عرب ملک کا ہاتھ نہیں۔ اقوام متحدہ کے ذریعے لبنان کے سیاسی راہنما رفیق حریری کے قتل میں شامی حکومت کو ملوث کرنے کی کوشش اس لیے کی گئی تھی کہ شام نے حماس اور حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف جنگوں میں کھل کر مدد کی۔ جزب اللہ اور حماس کے لیے شام کی سرحدیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ لبنان اور فلسطین کے مجاہدین شام کو اپنا ہی گھر تصور کرتے ہیں۔

امریکہ کی حلیف خلیجی ریاستوں اور امریکی بالادستی کی مخالف ایران کی مذہبی حکومت کے دو الگ الگ بلاک بن گئے، لیکن اس اختلاف کو ہمیشہ عرب ایران مخاصمت کے پیرائے میں دیکھا جاتا رہا۔ شام میں امریکہ کو عرب حکومتوں کے علاوہ ترکی نئے حلیف کے طور پر شامی حکومت کے خلاف اہم کردار کر رہا ہے۔ خلافت اور مسلمانوں کے لیے مرکزیت کی علامت رہنے والا ترکی اس وقت جماعت اسلامی طرز کی اسلامی پارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ ترکی اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد کا اہم مستقر ہے۔ ترکی نے کبھی عسکری طور پر فلسطینی مجاہدین کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی فلسطینیوں کو ترکی میں رہنے کے لیے مہاجرین کے کیمپ قائم کرنے دیئے، البتہ شام کے خلاف جب بھی بغاوت ہوئی ترکی نے باغیوں کی ہر ممکن امداد کی۔ شام میں باغیوں کو مدد فراہم کرنے کے علاوہ ترکی کے القاعدہ اور عرب ریاستوں کے ساتھ کبھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے۔ اسی طرح اردگان پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت ترکی کو ایک خالص اسلامی ملک بنانا چاہتی ہے اور مغربی طاقتوں کے دباو کو خاطر میں لائے بغیر سیکولر ترکی کو مذہبی شناخت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ، عرب ممالک اور مغربی طاقتوں کے ساتھ ترکی کا شام مخالف اتحاد صاف دلی اور نیک نیتی کی بجائے فقط عارضی بنیادوں پر قائم ہے۔

شام اسرائیل کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے والی قوتوں کی پشت پناہی کرنے والی واحد عرب ریاست ہے۔ اسرائیل کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مغربی طاقتیں شام میں حزب اللہ مخالف حکومت قائم کریں۔ چاہے وہ عرب شہنشاہتوں کی طرح غیر جمہوری حکومت ہو یا کوئی فوجی آمرانہ حکومت ہو۔ عرب دوستوں کے تعاون سے امریکی انتظامیہ نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر عراق میں صدام حکومت کو ختم کر دیا۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کی گرفتاری کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ آج طالبان کے ساتھ امریکہ مذاکرات کر رہا ہے اور افغانستان سے واپس جانا چاہتا ہے۔ افغانستان میں امریکیوں کو زبردست نقصان سے دوچار کرنے والی قوتوں کے ساتھ اوبامہ انتظامیہ کی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی مداخلت کا ہدف طالبان نہیں تھے، بلکہ امریکہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ نشانہ بنائے اور اسامہ بن لادن طالبان حکومت کے ذریعے ریاستی طاقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکیں، اور اسکے ساتھ ہی ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے پاکستان اور اٖفغان علاقوں میں جاسوسی کی سرگرمیاں جاری رکھی جاسکیں۔ عراق میں امریکی مداخلت کا ہدف بھی ایران اور شام کو کا گھیراؤ تھا۔

اوبامہ انتظامیہ نے مشرق وسطٰی اور افریقی عرب ممالک میں تبدیلی کی لہر کے ساتھ ہی شام پر حملوں کے لیے پر تولنا شروع کر دیئے تھے۔ شامی حکومت کا موقف ہے کہ امریکی میزائل حملوں کا مقصد شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ سمندر میں مستقر بحری بیڑوں سے امریکی میزائل داغیں گئے اور شام کی سرزمین پر موجود باغی عناصر اپنے حامی غیر ملکی جنگجووں کے ساتھ مل کر شامی افواج کے خلاف حملے تیز کریں گے۔ لیکن دوسری طرف شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ سلفی جنگجووں کی ممکنہ کامیابی کے خوف کی وجہ سے امریکہ نے شام میں براہ راست مداخلت کا قدم اٹھایا ہے، تاکہ سیکولر عناصر کو تقویت دی جاسکے۔ حالات جو بھی رخ اختیار کریں، شام سمیت دنیا بھر میں امریکی استعمار کی جارحیت کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے اور مشرق وسطٰی میں اسرائیل کی سکیورٹی، امریکی مفادات کی فہرست میں سب سے پہلی ترجیح ہے۔ شام اسرائیل دشمن ملک ہے اور القاعدہ کی چھتری تلے جمع ہونے والے غیر ملکی جنگجو شامی حکومت کے دشمن ہیں۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ القاعدہ شام کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

اس وقت سب سے اہم سوال خطے میں حزب اللہ کے کردار کا ہے کہ مشرق وسطٰی کی طاقت ور ترین سیاسی و عسکری قوت کا ردعمل کیا ہوگا۔ حزب اللہ کا موقف ہے کہ شام ہمارا حامی ملک ہے اور ہمارے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل گذشتہ چند ماہ میں کئی بار اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ حزب اللہ کا عسکری ونگ مکمل طور پر شامی افواج کی مدد کر رہا ہے۔ حزب اللہ کے مدمقابل فری سیرین آرمی کے علاوہ القاعدہ کی چھتری تلے جمع ہونے والے عرب، ترکش، یورپی، افغانی اور پاکستانی عسکریت پسند گروہ ہیں۔ عسکری تجزیہ نگاروں کو اس بات پر اختلاف ہے کہ اسرائیلی بمباری اور میزائل حملوں کا بھرپور جواب دینے والی حزب اللہ امریکی میزائل حملوں اور القاعدہ کے زمینی حملوں کا مقابلہ کر پائی گی یا نہیں؟ بی بی زینب(س) کے مزار پر راکٹ حملوں اور لبنانی سرحد پر شیعہ نشین علاقوں میں القاعدہ کی جارحیت نے شام کی خانہ جنگی میں فرقہ وارانہ چھاپ کو گہرا کر دیا ہے۔ لبنانی، عراقی اور غیر عرب شیعہ قوتوں کا موقف ہے کہ کربلا اور دمشق ہمارے لیے جان سے عزیز مقامات ہیں اور ان دونوں مقامات کے تحفظ کے لیے حزب اللہ کسی رکاوٹ کی پروا نہیں کرے گی۔ فرنٹ لائن پر حزب اللہ شیعہ لڑاکا دستوں کی قیادت کر رہی ہے۔ القاعدہ چونکہ سنی العقیدہ مسلمانوں پر مشتمل عسکری گروہوں کی جماعت ہے، جو فقط سلفی اور برصغیر کے دیوبندی مسلک والوں کو مسلمان سمجھتی ہے، لیکن شیعہ مجتہدین نے کبھی القاعدہ کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا، جس کی وجہ سے عرب دنیا سمیت تمام اسلامی ممالک میں عوامی رائے عامہ ہمیشہ حزب اللہ اور حماس کے حق میں رہی ہے اور انہیں اسرائیل کے خلاف عربوں کے ہیرو ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

القاعدہ کے پکڑے جانے والے جنگجووں کی تفتیشی رپورٹوں میں اس بات کو تکرار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ سوڈان میں اسامہ بن لادن کے قیام کے دوران حزب اللہ کے آپریشنز کی منصوبہ بندی کرنے والے شیعہ گوریلا لیڈر عماد مغنیہ کی ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ امریکہ کے خلاف جہاد کا دعویٰ کرنے والی القاعدہ قیادت کو عماد مغنیہ نے اسرائیل کے خلاف جہاد کی دعوت دی، لیکن سوڈان میں اسامہ کی رہائش گاہ پر امریکی میزائل حملوں کی وجہ سے القاعدہ قیادت افغانستان میں منتقل ہوگئی۔ افغانستان میں طالبان اسامہ بن لادن کے میزبان بنے۔ حزب اللہ اور القاعدہ قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہی ختم ہوگئی۔ سوڈان حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنے والی حماس قیادت نے بھی القاعدہ کو اسرائیل کے خلاف مشترکہ جہادی کارروائیوں کی دعوت دی، لیکن حماس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے بعد حماس نے محسوس کیا کہ القاعدہ قیادت اپنا مستقر افغانستان کو ہی بنانا چاہتی ہے اور بلاد حرمین یعنی مکہ اور مدینہ کو کفار سے پاک کرنے کا نعرہ لگانی والی القاعدہ قیادت کو اسرائیل کے خلاف جدوجہد سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جس سے حزب اللہ اور حماس کے حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ القاعدہ کی ذہنیت یہ ہے کہ پہلے مسلم ممالک کی حکومتوں کے خلاف تخریبی کارروائیوں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے شورش برپا کی جائے اور کسی نہ کسی ملک میں ریاستی طاقت حاصل کی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ اسرائیل کے خلاف جہاد کی حمایت القاعدہ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

فرقہ وارانہ رنگ غالب آجانے کی وجہ سے حزب اللہ، شامی حکومت، عراق، ایران اور عرب و غیر عرب شیعہ قوتوں میں مثالی طور پر مقصد کی یکسوئی اور اشتراک عمل پایا جاتا ہے، جس کی بنیاد ایک عقیدہ ہے اور شیعہ مسلک کے عقیدے کی بنیاد نظریہ امامت ہے اور شیعوں کے نزدیک آخری امام کا ظہور ہوگا، جس میں شام کے خطے کا اہم کردار ہوگا، جن کے ساتھ مل کر ان کے حامی یہودیوں اور دنیا کی باطل طاقتوں سے جنگ کریں گے اور کربلا میں مدفون امام حسین، شیعوں کے آخری امام کے جد امجد ہیں، اس لئے شیعہ عقیدے کے مطابق کربلا اور دمشق کی حفاظت کرنا اور ان علاقوں کی آزادی برقرار رکھنا، دنیا میں سچی اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ شیعہ مسلک کے تمام مسلمان امام حسین اور اپنے آخری امام کو نبی آخرالزامان کے اہلبیت ہونے کی وجہ سے اپنی جانوں سے زیادہ عزیز مانتے ہیں اور پوری دنیا سے کروڑوں کی تعداد میں کربلا اور دمشق میں حاضری دیتے ہیں۔ پوری دنیا کے شیعہ مسلمان عقیدے کے لحاظ سے کربلا اور دمشق کے تحفظ کے لیے حزب اللہ، لشکر مہدی اور شام میں حکومت کی طرف سے جنگ کرنے والے شیعہ عساکر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ شیعہ مسلک کے مسلمان حزب اللہ کو آخری امام کی فوج سمجھتے ہیں اور انکی تائید و حمایت انکا مذہبی فریضہ ہے۔ ایسے میں حزب اللہ کے عسکری ونگ کو شیعہ نشین ملکوں کے سنگم پر واقع دمشق اور کربلا کی آزادی برقرار رکھنا آسان ہے، بہ نسبت اس کے متفرق العقیدہ اور ایک دوسرے کی تکفیر کے قائل القاعدہ عناصر امریکی عسکری ماہرین کی کمانڈ میں شام کو فتح کرلیں۔ القاعدہ کے لیے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اردن، سعودی عرب اور ترکی شامی حکومت کی تبدیلی تو چاہتے ہیں، لیکن تینوں ممالک ایران کی شیعہ حکومت کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کرسکتے اور نہ ہی القاعدہ کی حمایت میں زبان کھول سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب، سیرین فری آرمی، امریکہ اور القاعدہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہونا ناممکن ہے ۔

حزب اللہ عربوں کی تجربہ کار عسکری طاقت ہے، جنہیں سنی العقیدہ عرب قوتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے، جیسا کہ فلسطین میں حماس نے حزب اللہ مخالف سلفی گروہوں کا صفایا کیا اور مصر کے تحریر اسکوائر میں حسن نصراللہ کی تقریریں سنی جاتی رہی ہیں، حماس اور اخوان المسلمون جب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے تو لبنان کے شیعہ مجتہدین نے انہیں سہارا فراہم کیا۔ حالیہ رمضان میں سید حسن نصراللہ نے حماس اور فلسطین کے تمام راہنماوں کو افطار کی دعوت دی اور برملا طور پر القاعدہ عناصر کو چیلنج کیا کہ وہ اکٹھے ہو کر شام آجائیں، ہم انہیں واپس نہیں جانیں دیں گے، نہ غیر ملکی مداخلت کو باقی رہنے دیں گے، لیکن القاعدہ کے جنگجو گروپوں کو عقیدے کی بنیاد پر دنیا میں کہیں بھی حمایت حاصل نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی مسلک کے جید علماء نے آج تک القاعدہ کے وجود، مقاصد اور طریقہ کار کی تائید کی ہے، بلکہ القاعدہ ایک بے گھر گروہ ہے، جو اسامہ بن لادن کی اپنے ہی ملک سعودی عرب میں ان کی شہریت ختم ہو جانے کی وجہ سے انتقامی جذبے کے تحت وجود میں آیا۔ اس وقت شام میں القاعدہ کی چھتری تلے جمع ہونے والے سب گروہ غیر ملکی ہیں، لیکن حزب اللہ کے لیے جغرافیائی طور پر شام اور لبنان میں کوئی فرق نہیں۔ القاعدہ اور امریکہ شامی باغیوں کی حمایت کے لیے شام آ رہے ہیں، لیکن حزب اللہ لبنان، فلسطین اور شام کو تحفظ دے رہی ہے۔

شام مخالف دھڑوں کی سپورٹ میں امریکہ کی حلیف سعودی سلفی حکومت القاعدہ پر پابندی لگا چکی ہے، لیکن یہی سعودی حکومت اسرائیل کو اپنے علاقوں سے نکالنے اور پہلی بار شکست سے دوچار کرنے کی خوشی میں حزب اللہ کے ہزاروں جنگجووں کو سرکاری مہمان کی حیثیت سے مکہ اور مدینہ میں بلا چکی ہے۔ عرب ممالک اور ساوتھ ایشاء کے مسلم ممالک کی رائے عامہ شعوری طور اس سوچ کی حامل ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے تمام گروہ امریکہ کے حلیف رہ چکے ہیں، کیونکہ وہ امریکہ کی تخلیق ہیں، لیکن حزب اللہ کی تخلیق کا مقصود ہی لبنان سے امریکہ سمیت تمام استعماری طاقتوں کی افواج کا انخلاء تھا، جس کی خاطر تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکی میرینز کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ القاعدہ سے منسلک گروہ اپنے ہی ملکوں کی افواج سے بر سرپیکار ہیں اور عام مسلمان آبادیوں میں معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینی اور لبنانی عوام کی سکیورٹی کے لیے صہیونی افواج پر حملے کرتی ہے۔

شام میں حزب اللہ ریاستی طاقت کا ساتھ اس لئے دے رہی ہے کہ اسرائیل کے خلاف اہم حلیف عدم استحکام کا شکار نہ ہو، لیکن القاعدہ صرف مسلکی اختلاف کی بنیاد پر خطے میں طاقت کا توازن اس طرح بدلنا چاہتی ہے، جس کا نتیجہ صرف امریکی اور اسرائیلی بالادستی ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں مسلکی تعصب کی وجہ سے شامی حکومت کی مخالف ہیں، لیکن تمام مذہبی جماعتیں پاکستانی طالبان یا شام میں لڑنے والے القاعدہ عسکریت پسندوں کی حمایت سے کترارتی ہیں، جس کے برعکس حزب اللہ کو پوری دنیا میں اعتدال پسند مذہبی جماعتیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ القاعدہ نے ہمیشہ کسی نہ کسی غیر ملکی طاقت کی سرپرستی میں اپنے حلیفوں اور سرپرستوں کے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کرایے کے دہشت گردوں کا کردار ادا کیا ہے اور پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں دہشت پسند کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کی دیوبندی اور سلفی قوتیں مسلسل القاعدہ سے لاتعلقی پر اصرار کرتی ہیں۔ حزب اللہ نے پاکستان سمیت کسی اسلامی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ حزب اللہ ایک عسکری قوت ہونے کے ساتھ پختہ ترین سفارتی مہارت رکھنے والی مضبوط جمہوری قوت ہے۔

پاکستان میں مغربی دنیا اور امریکہ سے دوستی کا دم بھرنے والے عربوں کے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے سمجھوتوں کی بنیاد پر یہ دلیل قائم کرتے ہیں کہ پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لینے میں کوئی عار نہیں، لیکن عربوں کے اسرائیل کے ساتھ سمجھوتوں کے باوجود بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا اسرائیل کے حوالے سے یہ موقف کہ اسرائیل مغرب کی ناجائز اولاد ہے، پاکستانی خارجہ پالیسی کے لیے بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملت پاکستان بابائے قوم کے راستے پر قائم ہے، حزب اللہ پاکستانی عوام میں ایک ہیرو کے طور پر مقبول ہے۔

امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں حزب اللہ کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں، جبکہ القاعدہ ایسے عالمی مفرورں پر مشتمل ہے جو مختلف جرائم میں اپنے اپنے ملکوں کو مطلوب ہیں۔ حزب اللہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور اپنے مقابلے میں سینکڑوں گنا بڑے دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی کامیاب جنگی تاریخ کی حامل ہے۔ القاعدہ نے ہمیشہ دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں فراریوں کی فوجیں تیار کی ہیں۔ حزب اللہ لبنان اور شام میں کسی کی پناہ میں نہیں بلکہ علاقے کے استحکام کی ضمانت، خطے میں عالمی طاقتوں کی بالادستی کے خلاف ایک مزاحمتی علامت کے طور پر موجود ہے۔ پوری دنیا کے امن پسندوں کو سید حسن نصراللہ کے وعدے پر یقین ہے کہ جلد ہی شام کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے گا اور امریکی حملے شام میں آنے والے شرپسندوں کی گردنیں ذوالفقار کی ضرب سے بچا لئے جانے میں بے سود ثابت ہوں گے، کیونکہ حزب اللہ جرائم پیشہ عناصر اور اغواء برائے تاوان کو تجارت سمجھنے والوں کا گروہ نہیں اور شام افغانستان نہیں بلکہ امریکہ کا قبرستان ثابت ہوگا۔

وحدت نیوز ( لاہور) صوبائی وزارت داخلہ پنجاب نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی ،صوبائی سیکریٹری جنرل پنجاب علامہ عبد الخالق اسدی اور بھکر کے رہائشی صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ اصغر عسکری پر اپنے ہی شہربھکر میں داخلے پر 30یوم تک کے لئے مضحکہ خیز پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں بھکر میں اہل تشیع آبادی پر ہو نے والے تکفیری دہشت گردوں کے حملے اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی و صوبائی قیادت کے فعال کردار سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر صوبائی وزارت داخلہ نے ایم ڈبلیو ایم کی چار مرکزی شخصیات پر بھکر میں داخلے پر پابندی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ،وزارت داخلہ نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیئے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کے مندرجہ بالا رہنماؤں کے بھکر میں داخلے پر پابندی کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ۔

 

واضح رہے کہ بھکر کے علاقے کوٹلہ جام ، پنجگرائیں اور دریا خان میں مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر قانون کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے پشت پناہ رانا ثناء اللہ کی ایماء پر تکفیریوں کے حملے اور چار مومنین کی شہادت کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی اور علامہ عبدالخالق اسدی فوراً بھکر پہنچ گئے تھے اور شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماع سے خطاب کیا تھا ، جس کے نتیجے میں مقامی مومنین کے جذبہ استقامت میں اضافہ ممکن ہوا تھا ، جب کہ شہداء کے سوئم کے موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور بھکر کے رہائشی علامہ اصغر عسکری نے اسلا م آباد سے خصوصی شرکت کی تھی جس کے بعد انہیں بھکر میں دیگر مومنین کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا تھا ، بیگناہ گرفتار اسیروں کی رہائی کے لئے مجلس وحدت مسلمین نے صوبائی حکومت کو 24گھنٹے کی ڈیڈلائن دی تھی اور تمام بڑے شہروں میں علامتی دھرنے دیئے تھے جس کے نتیجے میں اسیروں کی رہائی ممکن ہو ئی تھی ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق، لیبیا اور افغانستان کے بعد اب شام میں نیا محاذ کھولنے جارہے ہیں جس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہونگے، اور یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اگر شام پر حملہ ہوا تو یہ جنگ اسرائیل کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گی اور اس کے بعد جنگ کو روکنا امریکہ کے بس میں نہیں رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی نائن سیکٹر کراچی کمپنی میں دفاع پاکستان کنونشن کے حوالے سے آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ، کویت، اور اردن مصر میں ایک جمہوری حکومت کے خاتمے اور ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرانے کے بعد اب شام میں یہ عمل دہرانا چاہتے ہیں جو قابل مذمت ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک مسلمان ملک پر حملے کیلئے اپنی سرزمین دینے میں ترکی، اردن اور قطر پیش پیش ہیں۔ گذشتہ آٹھائیس ماہ سے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے شام میں باغیوں کو اسلحہ اور مالی تعاون فراہم کیا لیکن وہ بشارالاسد کی حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے اب یہ ممالک عالمی بدمعاش امریکہ کے ساتھ ملکر شام میں جنگ لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممالک اپنے ملکوں میں اس طرح کی مداخلت برداشت کریں گے۔ اس حوالے سے بندبن سلطان کے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس میں مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں امن کو تہہ بالا کرنے میں ان عرب ممالک کا ہاتھ ملوث ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور اس حوالے سے اپنے موقف کا اعلان کرے اور اس جنگ کو روکوانے میں عالمی سطح پر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ایک کرکے تمام مسلمانوں ملکوں میں جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دفاع پاکستان کنونشن پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس دن بھارت سمیت امریکہ کو بتادیں گے کہ پاکستان کے عوام اپنے ملک کے دفاع میں اپنی افواج کے ساتھ ہیں اور اس مادروطن پر ہلکی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے ایل او سی پر حالیہ واقعات اور بھارتی آرمی چیف کے بیانات کی سخت مذمت کی۔

وحدت نیوز (ملتان ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ملتان کی ضلعی کابینہ کی تقریب حلف برداری جامعہ شہید مطہری ملتان میں ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدارحسین نقوی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید حسن ظفرنقوی تھے۔ جبکہ ان کے علاوہ سابقہ مرکزی سیکرٹری تعلیم مجلس وحدت مسلمین یافث نوید ہاشمی، سید قمرعباس زیدی، سید ابو عبداللہ شوکت زیدی، سید نجم الحسن کاظمی بھی موجود تھے۔

مجلس وحدت مسلمین ملتان کی ضلعی کابینہ میں حلف اُٹھانے والوں میں محمدعباس صدیقی، محمد اصغر سومرو، شبر رضا زیدی، ثقلین نقوی، وسیم عباس زیدی، غلام حسنین انصاری، غلام قاسم علی، سخاوت علی، سید دلاورعباس زیدی، مرزا وجاہت حسین، زاہد عباس سوری، سید علی رضا بخاری شامل ہیں۔ اس موقع پر علامہ سید حسن ظفرنقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان میں مجلس وحدت مسلمین نے بہت جلد اپنا ایک مقام بنالیا ہے۔ ملتان کی عوام کے لیے علامہ سید اقتدارحسین نقوی کی کاوشیں قابل قد رہیں۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تشیع میں ایک مقام رکھتی ہے۔

وحدت نیوز (لاہور)  لاہور کے علاقے مصری شاہ میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے مجلس وحدت مسلمین فیروز والا کے لیگل ایڈوائز اور ضلع شیخوپورہ کی کابینہ کے نامزد رکن ایڈووکیٹ سید ارشد علی شاہ کو شہید کر دیا۔ سید ارشد علی شاہ ایڈووکیٹ فیروز والا کچہری میں پریکٹس کرتے تھے۔ سید ارشد علی فیروز والا میں ہی رہائش پذیر تھے اور اپنی گاڑی نمبر STP 2003 پر مصری شاہ میں اپنے سسرال آرہے تھے کہ دو موریہ پل کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے، سید ارشد علی شاہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی چل بسے۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ انکی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ دوسری جانب پولیس نے مقدمہ درج کرکے ٹارگٹ کلنگ سمیت تمام پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سید ارشد علی شاہ کو ممکن ہے شیعہ ہونے کی وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا ہو، تاہم تفتیشی فورس دیگر پہلووں پر بھی تفتیش کر رہی ہے۔ سید ارشد علی کی شہادت کے بعد مصری شاہ کے علاقے میں شہریوں کی کثیر تعداد ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوگئی، علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ پولیس نے واقعہ کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔

سید ارشد علی شاہ کا پوسٹمارٹم جاری ہے جبکہ نماز جنازہ کل ادا کی جائے گی۔ اس سانحہ کے حوالے سے مجلس وحدت مسلمین کے علامہ حسن ہمدانی نے "اسلام ٹائمز" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہی لگتا ہے، تاہم شواہد اور تفتیش کے بعد ہی فیصلہ کن پالیسی جاری کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی نے اپنی پریس کانفرنس میں دھمکی دی تھی کہ وہ اب اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کا بدلہ اپنے زور بازو سے لیں گے، یہ واقعہ بھی ممکن ہے سپاہ صحابہ کی کارستانی ہو۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، ایک روز قبل لوہے کے معروف تاجر مبشر بٹ کو بھی گڑھی شاہو کے علاقے میں شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اہل تشیع کی سکیورٹی یقینی بنائے، بصورت دیگر مجلس وحدت راست اقدام پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔

وحدت نیوز (ملتان)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹی جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر گزشتہ روز ہونیوالے سانحہ بھکر اور بعد ازاں بے گناہ کارکنان کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف چوک نواں شہر ملتان میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ اور علامتی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ملتان کے ضلعی سیکرٹری جنرل وممبر امن کمیٹی علامہ سید اقتدارحسین نقوی، علامہ قاضی نادرحسین علوی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد عباس صدیقی، ڈویژنل صدر آئی ایس او رتہورحیدری نے کی۔ دھرنے کے شرکاء نے بینرز، پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے۔ جن پر سانحہ بھکر کے مومنین کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید اقتدارنقوی نے کہا کہ سانحہ بھکر میں ڈی پی او ملوث ہے جب تک اُسے وہاں سے معطل نہیں کیا جائے حالات قابو میں نہیں آ سکتے۔ پنجاب حکومت کی آشیر باد سے جنوبی پنجاب میں تکفیری ٹولے کو مراعات ملی ہوئی ہیں۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ٹولہ کالعدم ہے لیکن پھر بھی اُن کو پولیس کی حفاظت حاصل ہے۔ دھرنے کے شرکاء نے ڈی پی او، پنجاب حکومت اور دہشتگردوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے علاقے بھکر میں جان بوجھ حالات خراب کیے جارہے ہیں تا کہ شیعوں پر دبائوڈال کر وہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں محفوظ کیا جائے۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان (شعبہ تربیت) کی جانب سے برسی قائد مرحوم حضرت مفتی جعفر حسین (رہ) کے موقع پر دعائے کمیل و مجلس عزا کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکریٹری امور تربیت علامہ احمد اقبال رضوی نے وحدت میڈیا سیل کو دیئے گئے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی جعفر حسین پاکستان کی ملت جعفریہ کے ان  افراد میں سے ہیں کہ جن کہ خدمات کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، ہمیں ان کے کردار و افکار کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ شیعہ قوم قائد مرحوم کی یاد کو اپنی آئندہ نسلوں تک منتقل کرسکے اور ان کا ہم پر جو حق بنتا ہے وہ ادا ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائد مرحوم حضرت مفتی جعفر حسین (رہ)  کی یاد کو زندہ رکھنے کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے ان کی مرقد مبارک کربلا  گامے شاہ  لاہور پر دعائے کمیل و مجلس عزا کا انعقاد 29 اگست ، جمعرات کو 7 بجے کیا جارہا ہے، جس سے خصوصی خطاب ناصر ملت حجتہ السلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری فرمائیں گے، تمام مومنین و مومنات سے بڑی تعداد میں شرکت کی گزارش ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree