The Latest

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایک وفد کے ہمراہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ المصطفی ہائوس لاہور میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر اطہر عمران طاہر سے ملاقات کی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وفد میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل وسیکرٹری اُمور خارجہ علامہ سید شفقت حسین شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری تربیت علامہ احمد اقبال رضوی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب سید اسد عباس نقوی شامل تھے۔ جبکہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مرکزی صدر اطہر عمران کے علاوہ سیکرٹری نظارت روزی علی، مرکزی نائب صدر ابوذر مہدی، مرکزی سیکرٹری مالیات ناصر عباس، مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت انیس الحسن، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زین زیدی موجود تھے۔

آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر نے مجلس وحدت مسلمین کے رہنمائوں کو مرکزی سیکرٹریٹ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کاسلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ملت کے اجتماعی معاملات بطریق احسن آگے بڑھ سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملت کو درپیش مسائل کا حل باہمی وحدت میں ہے۔ اطہر عمران نے مزید کہا کہ دشمن انقلابی حلقوں کے خلاف سازشیں کر کے نظریاتی وانقلابی لوگوں کے مابین دوریاں پیدا کرکے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کو ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن کر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا تاکہ پاکستان میں رہبریت کی آرزو (وحدت) پوری ہوسکے۔ اس موقع پرعلامہ ناصر عباس جعفری اور اطہر عمران نے ملی وقومی اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل وسیکرٹری اُمور خارجہ علامہ سید شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملت تشیع کی دو آنکھیں ہیں۔ پاکستان میں دونوں انقلابی قوتیں شہید قائد کے ارمانوں کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں آئی ایس اوپاکستان کی مرہون منت ہیں۔ اس موقع پر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ شفقت شیرازی کا کہناتھا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی ایک چراغ کی مانند تھے۔ جس سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے اور معاشرے میں نورپھیلا۔

وحدت نیوز :شہید سید علی رضا تقوی ؒ اپنی زندگی میں عشق و محبت رسول و آل رسول ؐ کی اعلیٰ مثال تھے۔ وہ تمام افراد کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اُن کی زندگی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ افراد ابتداء ہی سے اپنے دل میں کچھ کرنے کی تمنا رکھتے ہیں، فرق یہ ہے کہ بعض افراد کو اپنی زندگی میں موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں ہی کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتے ہیں اور کچھ لوگ مناسب موقع نہ ملنے اپنی موت سے پیغام دے جاتے ہیں کہ کچھ کرنے والے اپنی منزل کی جانب بڑھنے والے اپنے قدموں کی رفتار کو نہیں روکتے۔

تحریر: حجۃ الاسلام علامہ سید صادق رضا تقوی

اتوار کے دن لوگ معمولاً ہفتہ بھر کاروباری اور ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے انجام نہ شدہ کاموں کی انجام دہی کیلے رات گئے تک جاگنے نیز ہفتہ کی تھکن اتارنے کی غرض سے دیر تک سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 16 ستمبر 2012ء اتوار کے دن لوگ اسی طرح کی مصروفیات میں مشغول تھے لیکن شہر کراچی میں ایک عجیب سا سماں تھا، آسمانوں کے فلک نشینوں میں ایک ہلچل سی مچی تھی اور صاحبان دل کے دلوں میں ایک عجیب سی تمنا کروٹیں بدل رہی تھی۔ یوں تو طے شدہ منصوبے کے مطابق توہین رسالتؐ کے خلاف امریکہ اور یورپ کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی جانی تھی جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی امریکی سفارتخانے پر جاکر اختتام پذیر ہوتی، یاداشت پیش کی جاتی اور پر امن طریقے سے ختم ہو جاتی۔ اِس ریلی کیلئے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی اور تمام راستے پولیس اور حساس ادارے موجود تھے۔ مظاہرین کو ایک امریکی سفارتخانے کے کئی فرلانگ دور ایک خاص مقام تک روکنے کیلئے ہیوی کنٹینرز کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔ 8 کلو میٹر سے زیادہ اِس سفر میں ابتداء سے آخر تک کہیں کوئی بدمزگی سامنے نہیں آئی۔

ریلی میں شریک ہر ایک شخض ایک جذبے سے سرشار تھا، معاملہ ہی کچھ ایسا تھا، توہین رسالت مآب ؐ کا۔ ایسی لئے تو ایک خاص قسم کا جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا تھا، ہر جوان، بزرگ، بچہ اور خاتون سبھی بے چین، مضطرب اور ایمان کی سلامتی کے حوالے سے پریشاں دکھائی تھے، رنگ برنگ پرچم اور لبیک یا رسول اللہ ؐ کے سبز پرچموں نے سب کو ہم جہت و ہم صدا کردیا تھا، مگر ایک بات ضرور ہے کہ تمام شرکائے ریلی نے اپنے تمام کاموں کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی کہ وہ ریلی کے اختتام پر کیا کیا کام انجام دیں گے، اُنہوں نے کیا کرنا ہے اور اُن کا اگلا قدم کیا ہوگا! مگر ان شرکاء میں ایک ایسا جوان بھی تھا جو کچھ اور ہی سوچ کر آیا تھا، اُس کی راہ سب سے الگ اور جدا تھی اور اُس کے ذہن میں کچھ اور ہی منصوبہ بسا ہوا تھا، گو کہ وہ بہت کم گو تھا لیکن اُس دن اُس کے دل میں تڑپنے والی آرزو در حقیقت اُس کے مافی الضمیر کو بیان کرنے پر اُسے مجبور کررہی تھی۔

شہید ناموس رسالتؐ سید علی تقوی ؒ نے اس ریلی سے کچھ اور ہی معاہدہ کیا ہوا تھا، وہ الگ ہی سوچ کا حامل تھا کہ جس کا اظہار اُس نے گذشتہ چند روز سے اپنے اہل خانہ اور دوست و احباب سے کیا ہوا تھا۔ وہ ریلی میں گویا سب سے پیچھے تھا مگر سب سے آگے دیکھا گیا! وہ خاموش ضرور اور چپ طبیعت کا مالک ضرور تھا لیکن اُس دن اُس کی پراسرار خاموشی اور مسکراہٹ اُس کے من میں چھپے طوفان کا پتہ دے رہی تھی، ریلی میں اُس کے وہ بریدہ بریدہ جملے، دوستوں سے اشاروں کنایوں میں باتیں، رموز و اسرار سے لبریز اشارے سبھی اس کے متمنی شہادت ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔

اُس کی شہادت کے بعد یہ راز کھلا کہ اُس کی تمام حرکات و سکنات اور باتیں اِس بات کا ثبوت فراہم کر رہی تھیں کہ وہ شہادت کا کتنا شوقین، تشنہ اور دلدادہ تھا۔ اُس کی تحریریں آج بھی اِسی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ شہید سید علی رضا تقوی اپنے گھر میں چار بہنوں کے بعد پہلا بیٹا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ سے گھر والوں کی آنکھوں کا تارا تھا، مگر آٹھویں جماعت میں والد کے انتقال کے بعد اُس کی محنت و مشقت والی زندگی نے اُسے پر عزم، با حوصلہ اور آتش فشاں بنا دیا تھا۔ اُس کا کمسنی میں ہی ملازمت کرنا اُس کے حوصلوں کی پختگی نیز اسے عشق کی بھٹی میں کندن بنانے میں مددگار بنا۔ وہ خاموش ضرور تھا مگر اپنی کم گوئی سے اہل وطن کو یہ پیغام دے گیا کہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھو، حالات سے مت گھبراؤ، سخت حالات انسان کو مضبوط بناتے ہیں، اُس کے ارادوں کو مستحکم اور یقین کو محکم کرتے ہیں۔

شہید سید علی رضا تقوی ؒ اپنی زندگی میں عشق و محبت رسول و آل رسول ؐ کی اعلیٰ مثال تھے۔ وہ تمام افراد کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں کار ہائے نمایاں انجام دیئے اُن کی زندگی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ افراد ابتداء ہی سے اپنے دل میں کچھ کرنے کی تمنا رکھتے ہیں، فرق یہ ہے کہ بعض افراد کو اپنی زندگی میں موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں ہی کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتے ہیں اور کچھ لوگ مناسب موقع نہ ملنے اپنی موت سے پیغام دے جاتے ہیں کہ کچھ کرنے والے اپنی منزل کی جانب بڑھنے والے اپنے قدموں کی رفتار کو نہیں روکتے۔ شہید علی رضا تقوی ؒ نے جب میٹرک پاس کیا تو اُنہیں نائن کلاس کی جانب سے الوداعی پارٹی میں ایک شعر دیا گیا جو ان کی زندگی پر پورا اُترتا ہے، منزل پر پہنچنے کی طلب ہوتی ہے جن کو رستے میں کھڑے ہوکے وہ سوچا نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ شہید اپنی تمام زندگی میں عزم و حوصلے، استقامت، جدوجہد، حرکت و فعالیت اور ہر دور میں ہر زمانے میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی اعلیٰ اور زندہ مثال تھے۔ ہزاروں عاشقان رسول ؐ میں سے گولیوں نے صرف علی رضا تقوی ؒ کا ہی انتخاب کیا اور یہی اُن کی حقانیت کی دلیل ہے کہ آپ کا جذبہ شہادت اس حد تک جا پہنچا تھا کہ آپ نے بارہا اس کا تذکرہ کیا۔ شہید نے اپنی شہادت سے دنیا کے تمام نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ آپ اپنے دل میں جذبہ شہادت کو زندہ رکھیں اور خلوص نیت سے عمل کریں تو خداوند عالم آپ کو وہ موقع ضرور عطا کرے گا کہ وہ اپنے خون میں نہا کر اپنے رب سے ملاقات کرے۔ شہید علی رضا تقوی نے اسم علی مرتضیٰ کی لاج رکھتے ہوئے محمد ؐ پر اپنی جاں نثار کردی۔ اگر یہ کہا جائے کہ شہید علی رضا تقوی اسم مسمّیٰ تھا یعنی نام کا بھی علی تھا اور کام بھی علی۔

وہ یہی کہنا چاہتا تھا ........... گویا کہہ بھی گیا کہ ............
دل میں آرزو رکھو کچھ کر گزرنے کی ......... تمنا کو زندہ رکھو......
حالات کتنے دشوار ہی کیوں نہ ہوں ............. تمنا کو زندہ رکھو.....

وحدت نیوز (لاہور)ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ ابوذر مہدوی نے کہا ہے کہ قرآن کریم کے مطابق عالم اسلام کے شدید ترین دشمن یہودی اور مشرکین ہیں۔ پوری دنیا کے دشمنان اسلام، تکفیریوں نے شام میں اپنی امداد بھیجی تاکہ ایک اسلامی حکومت کو گرایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے لاہور میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ''مصر اور شام میں امریکی جارحیت کے پس پردہ حقائق'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ابوذر مہدوی نے مزید کہا کہ آلِ سعود نے امریکہ کو اس جنگ میں پیسے دینے کا اعلان کیا، امریکہ سے مدد مانگی کہ ایک اسلامی حکومت کو گرا دے یہ یہودیوں کی غلامی اختیار کر چکے ہیں یہ اسرائیل کی امداد کر رہے ہیں۔ شام کے مسئلے پر حق کا ساتھ دے کر سید حسن نصراللہ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ ہم امریکی و یہودیوں کو ہرا دیں گے۔ اُنہوںنے مزید کہا کہ امریکہ کی مجبوری بن گئی کہ اب وہ اس مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کی بات کرے۔ اس وقت شام کامیاب ہو رہا ہے اور امریکہ ناکام ہو رہا ہے، انشااللہ اللہ کا نام بلند رہے گا اور کفر مٹ کر رہے گا، امام زمانہ(ع) کا دیدار نزدیک تر ہے۔

وحدت نیوز (پشاور)مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید عامر حیدر شمسی نے اپر دیر میں فوجی افسران کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات کے اعلان کا نتیجہ ہے، اگر ریاست نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو ملک میں دہشتگرد مزید مضبوط ہوں گے۔ جاری کردہ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں کیوں ہمارے حکمران دہشتگردوں سے خوفزدہ ہیں، پاکستان کے 80 ہزار سے زائد شہداء کا خون ایک اے پی سی کیسے معاف کرسکتی ہے، حکمرانوں کو قانونی اور شرعی طور پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قاتلوں کو معافی نامے جاری کرتے پھریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے علاقہ اپر دیر میں پاک فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ، لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار کی شہادت کسی سانحہ سے کم نہیں۔ اگر اب بھی حکمرانوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو دہشتگردی کا یہ ناسور وطن عزیز کو مزید غیر مستحکم کردیے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز حکومت جس ایجنڈے پر چل رہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، ملک کی مخلص سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانوں پر ملکی مفادات پر مبنی پالیسیاں تشکیل دینے کیلئے دباو ڈالنا چاہئے۔

وحدت نیوز ( اسلام آباد ) عشق رسالت مآب سے سرشار سید علی رضا تقوی (ر ہ) کا مقام و منزلت خدا کی نذدیک محفوظ ہے ، شہید نے پاکستان کی سرزمین پر ناموس رسالت (ص) پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف ملت تشیع بلکہ ملت پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ، ان کی یاد آج بھی ہمارے دلوں میں ایک روشن چراغ کی مانند موجود ہے ۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے17ستمبرکو شہید ناموس رسالت (ص) سید علی رضا تقوی کی پہلی برسی کے موقع پر مرکزی میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ ، شہید علی رضا (ر ہ) نے دیگر مکاتب اور مذاہب کے سامنے ہمارے سروں کو فخر سے بلند کیا ، پاکستان کی سرزمین پرپہلی بار ناموس رسالت (ص) پر اپنی جان نچھاور کر نے کا اعزاز شہید علی رضا (ص) کو حاصل ہوا ۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید علی رضا تقوی (ر ہ) کی شہادت کے بعد عالم اسلام کی بڑی شخصیات نے بین الاقوامی سطح پر مجلس وحدت مسلمین کو تہنیتی پیغامات ارسال کیئے جو کہ شہید کی اعلیٰ مقصد شہادت کا ثبوت تھے ، ایران ، عراق ، لبنان اور شام سمیت دنیا بھر سے علمائے کرام نے شہید رضا تقوی (رہ ) کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا ۔

انہوں نے مذید کہا کہ شہید کی یاد ، شہید کا مقصد ، شہید آرزوآج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ، شہید رضا تقوی (ر ہ)کی روح کوخدا کے سامنے گواہ بناکر عہد کر تے ہیں کہ انشاء اللہ جب کبھی ناموس رسالت (ص) کے تحفظ کے لئے ہمارے لہو کی ضرورت پڑے گی ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس راہ میں قربان کر نے سے گریز نہیں کریں گے ۔

وحدت نیوز:اے شہید ناموس رسالت (ص) سید علی رضا تقوی (رہ) آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن یقین کریں آج آپ کی سیرت پر جو کہ کربلا کی سیرت ہے جو کہ امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہے پر ہزاروں نوجوان چلنے کے لئے پیدا ہو چکے ہیں، آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ تابندہ و پائندہ رہیں گے، آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ جس طرح آج ملت پاکستان آپ پر فخر کرتی ہے۔
شہید ناموس رسالت (ص) سید علی رضا تقوی کے فراق کا پہلا سال
تحریر: ابو مریم

مغربی استعمار روز اول سے اسلام اور اسلام کے پیروکاروں کے خلاف اپنی مکاریوں سے کام لیتا رہا ہے لیکن نتیجے میں ہمیشہ شیطان کے پیروکاروں اور مغربی استعماروں کو شکست کا سامنا رہا ہے، مغربی استعمار امریکہ، برطانیہ سمیت غاصب اسرائیل اور یورپی ممالک نے اکیسویں صدی میں انقلاب اسلامی ایران کے رونما ہونے کے بعد اسلام کے خلاف جو ہتھیار استعمال کئے ہیں وہ دراصل گولہ بارود اور بندوقوں پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ ثقافتی اور نفسیاتی ہتھیار ہیں، مغرب اور اس کے آلہ کاروں کی یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام ناب محمدی (ص) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کسی بھی طریقے سے روکا جائے خواہ اس کی خاطر کسی بھی حد تک جایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب اسلامی ایران کی آمد کے بعد ہی مغربی استعمار اور اسلام دشمن قوتوں نے طالبان کے نام پر ایک اسلام پسند گروہ تشکیل دیا جس نے افغانستان میں اسلام کے نام پر اسلام کی اصل شکل کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور اس سب کا مقصد صرف یہ تھا کہ اسلام ناب محمدی (ص) کے اثرات کو کسی طرح روکا جائے اور کم کیا جائے اور دنیا میں اسلام کی اصل حقیقت کو منحرف کر دیا جائے لیکن شاید یہ مغربی استعماری درندے اور اسلام اور مسلم امہ کے دشمن یہ بات بھول چکے ہیں کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اللہ کی خاص برکات سے نازل ہوا ہے اور کسی اوچھے ہتھکنڈوں سے اپنی اصل کو نہیں کھو سکتا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مغرب کو گذشتہ کئی دہائیوں سے اسلام فوبیا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے مغربی استعماری قوتیں آئے روز اسلام کے خلاف سازشوں کے ساتھ ساتھ اسلام کے مقدسات پر حملے کرنے سے دریغ نہیں کرتی ہیں کیونکہ مغربی استعماری اور شیطانی قوتیں بہت اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ جس باطل نظام کے سہارے ان کی حکومتیں اور تخت و تاج موجود ہیں وہ بہت جلد ریزہ ریزہ ہونے والے ہیں اور اسلام کی پوری دنیا پر عالمی حکومت قائم ہونی ہے تاہم مغرب کی شیطانی قوتیں مسلمانوں اور اسلامی مقدسات پر ثقافتی اورنفسیاتی یلغار جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان تمام سازشوں اور شیطانی مکر و فریب کے باوجود مغربی استعمار اور اس کے آلہ کار قوتیں اسلام کے خلاف اپنی سازشوں کو مکمل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

مغربی معاشرے جو خود کو بہت مہذب اور ثقافتی تمدن کا اعلیٰ ترین گردانتے ہیں ان کی شکست اور ذلت کی کئی ایک واضح مثالیں موجود ہیں، اسلام کے خلاف ان کی کئی ایک شیطانی سازشوں میں سے ایک بدترین سازش جو گذشتہ چند برس میں دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ان شیطانی قوتوں نے اپنے نمک خواروں کے ذریعے کائنات کی عظیم ترین ہستی اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مقدسہ کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ برس پیش آیا تھا جس میں ٹیری جونز نامی ایک شیطان نے کائنات کی عظیم ترین ہستی اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مقدسہ کو نشانہ بنایا اور پیغمبر اکرم (ص) کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا پھر بعد ازاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخانہ فلم بنائی گئی۔ اس عظیم سانحہ پر بھلا کوئی بھی مسلمان کس طرح خاموش رہ سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو اور اس اہانت پر خاموش رہے، تاہم دنیا بھر میں مسلمانوں نے اہانت پیغمبر اکرم (ص) کے خلاف زبردست احتجاج شروع کر دیا، شمع رسالت کے پروانے دنیا بھر میں امڈ آئے اور ملعون ٹیری جونز کی پھانسی کا مطالبہ کرنے لگے۔

واضح رہے کہ ختمی مرتبت حضرت محمد (ص) کی ذات مقدسہ تمام ادیان الہیٰ میں مقدس تصور کی جاتی ہے کیونکہ قرآن مجید سے قبل نازل ہونے والی الہیٰ کتابوں میں بھی حضرت محمد (ص) کی آمد کا ذکر موجود تھا یہی وجہ ہے کہ معتدل یہودی ہوں یا عیسائی ہوں وہ آج بھی ختمی مرتبت (ص) کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح حضرت عیسیٰ (ع) کا اور جس طرح کہ حضرت موسیٰ (ع) اور دیگر انبیاء کرام کا، اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک بھی تمام انبیاء کرام کا برابر احترام پایا جاتا ہے جو کہ اسلام کے سنہرے اصولوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں پر بسنے والے کروڑوں عوام ہرگز یہ برداشت نہیں کرتے کہ کوئی شیطانی آلہ کار اور شیطان کا چیلہ اٹھ کر ختمی مرتبت (ص) کی شان میں گستاخی کرے، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ برس بھی مغربی شیطانی قوتوں کی جانب سے ہونے والی جنایت کے جواب میں پاکستان کے عوام غم اور غصے کی حالت میں گھروں سے باہر نکل آئے اور عالمی سامراجی دہشت گرد امریکہ اور امریکہ میں مقیم ملعون ٹیری جونز کی نازیبا حرکت اور گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اسی احتجاج کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے ملک بھر میں امریکی سفارتخانوں کے گھیراؤ میں تبدیل ہوگیا۔

شہر کراچی میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ہونے والے دفاع ناموس رسالت میں یوں تو ہزاروں بلکہ لاکھوں عاشقان مصطفی شریک تھے لیکن سلام ہو اس نوجوان پر کہ جو اپنے گھر سے اس آمادگی کے ساتھ اس دفاع میں شریک ہوا کہ اپنے سرخ لہو سے ناموس رسالت (ص) کا تحفظ کر گیا، جی ہاں! یہاں بات ہو رہی ہے اس جوان مرد سید علی رضا تقوی شہید کی کہ جو سر پر کفن باندھے وقت کے یزیدوں سے ٹکرا گیا، کہ جس نے اپنے جد امجد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کی خاطر ثابت کر دیا کہ سید علی رضا تقوی دور حاضر کا عباس علمدار ہے، شہید علی رضا تقوی لبیک یا رسول اللہ (ص) کے فلک شگاف نعروں کو اپنی زبان مقدس سے بلند کرتا ہوا وقت کے یزید امریکہ کے اس سفارت خانے کی جانب بڑھ رہا تھا جو پاکستان بھر میں ہزاروں فرزندان اسلام کا قاتل ہے، یہ وہی یزیدی سفارتخانہ تھا کہ جس کے ملک نے اہانت رسول اکرم (ص) کرنے والے شیطان کو پناہ دے رکھی تھی اور اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کی گئی تھی، یہ محل یزیدی تھا کہ جس کے طرف حسینی فرزند رواں دواں تھا تا کہ اس یزیدی ایوان کو خاک میں ملا دیا جائے۔

شہید علی رضا تقوی کربلا کے علمدار اور سپہ سالار حضرت عباس علمدار کا جذبہ دل میں لئے شیطانی و طاغوتی یزیدی ایوان کے سامنے جا پہنچا اور مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ شہید علی رضا تقوی ان نوجوانوں میں سرفہرست تھا کہ جنہوں نے طاغوتی ایوان پر لبیک یا رسول اللہ کا پرچم نصب کیا تھا، پس شہید علی رضا تقوی اپنے ہدف کو جا پہنچا اور خدائے بزرگ و برتر کو نہیں معلوم کہ شہید علی رضا تقوی کی کون سی ادا پسند آ گئی اور اس کے نتیجے میں علی رضا تقوی ناموس رسالت اور دفاع رسالت (ص) کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد سید الشہداء اور شہدائے کربلا کی طرح اپنے ہی خون میں غلطاں ہوکر خالق حقیقی کی جانب پرواز کرگیا، آج ستمبر کی 16 تاریخ ہے، آج شہید علی رضا تقوی کی شہادت کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، اے شہید ناموس رسالت(ص) سید علی رضا تقوی آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن یقین کریں آج آپ کی سیرت پر جو کہ کربلا کی سیرت ہے جو کہ امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہے پر ہزاروں نوجوان چلنے کے لئے پیدا ہو چکے ہیں، آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ تابندہ و پائندہ رہیں گے، آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ جس طرح آج ملت پاکستان آپ پر فخر کرتی ہے۔

 

ہمارا سلام ہو محمد مصطفی (ص) پر، سلام ہو علی المرتضیٰ (ع) پر
ہمارا سلام ہو شہزادی کونین سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) پر
سلا م ہو ہمارا حسن و حسین (ع) پر جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں،
سلام ہو ہمارا آئمہ اطہار علیہم السلام پر، ہمارا سلام ہو امام زمان عج فرج شریف پر
ہمارا سلام ہو شہید علی رضا تقوی آپ پر، آپ کے والدین پر ، آپ کے اہل و عیال پر،

وحدت نیوز(لاہور ) سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے سانحے کے شہداء کی مائوں، بہنوں اور شیعہ قوم کے پرامن احتجاج نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اصل ماجرا کیا ہے، میں نے ہمیشہ کہا کہ اسلام کے اصل دشمن اندر ہیں، اسلام کے اصل دشمن یہ نام نہاد مسلمان ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے لاہور میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ''مصر اور شام میں امریکی جارحیت کے پس پردہ حقائق'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ ہم امریکہ کو برا کہتے ہیں مگر اصل برائی کی جڑ سعودی عرب ہے۔ مسلمانوں کی معاشی، سیاسی اور اقتصادی بدحالی کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔ عرب لیگ مسلمانوں کی نہیں عربیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ پوری دنیا مسلمان ممالک کے تیل پر پلتی ہے۔ سعودی عرب اور مسلم ممالک اگر اسلام سے مخلص ہیں تو ذرا ایک بار تیل کی فروخت ڈالر کے بجائے یورو یا کسی اور کرنسی میں کریں، امریکہ کو لگ پتہ جائے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف بڑی بڑی باتیں کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب خود مسلمانوں کے حقوق کا غاصب ہے۔ شام میں جو حالات ہیں، اس پر میں نے پروگرام بھی کیا ہے کہ یہ ثابت ہے کہ کیمیکل ہتھیار کس نے چلائے اور کس سعودی شہزادے نے خریدے اور کس نے فراہم کئے، مگر ابھی بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔

وحدت نیوز ( پاکپتن ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ پنجاب ضلع پاکپتن کا تنظیمی کنونشن امام بارگاہ حسینیہ ساہیوال روڑ پاکپتن میں منعقد ہوا ، جس کی صدارت سید مروت حسین زیدی سرپرست اعلیٰ انجمن حسینیہ پاکپتن نے کی،ضلعی شوریٰ کے اراکین نے کثرت رائے سے مخدوم طالب حسین اسدی کو ضلعی سیکریٹری جنرل پاکپتن برائے سال2013-16منتخب کر لیا ہے ، مہمان خصوصی اور صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ عبد الخالق اسدی نے نو منتخب سیکریٹری جنرل مخدوم طالب حسین اسدی سے ان کے عہدے کا حلف لیا ۔

تقریب حلف برداری میں معروف سیاسی و سماجی شخصیات پیر عبدالظاہر چشتی اور علی عمران ہو تیانہ نے خصوصی شرکت کی اس سے قبل ضلعی شوریٰ کی جانب سے تین نام الیکشن کمیشن کو فراہم کیئے گئے جن میں سید شعیب حیدر نقوی ، مختار احمد بلوچ اور مخدوم طالب حسین اسدی شامل تھے ، اراکین شوریٰ نے استصوابِ رائے کے بعد مخدوم طالب حسین اسدی کو نیا میر کاروان منتخب کر لیا۔

وحدت نیوز ( گلگت ) سابق امام جمعہ والجماعت سید عباس علی شاہ (مرحوم ) کی ناگہانی وفات کی مناسبت سے ایک تعزیتی ریفرنس صوبائی سیکریٹریٹ گلگت بلتستان میں منعقد کیا گیا،جس کی صدارت  مجلس وحدت مسلمین گلگت ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ شیخ محمد بلال سمائری نے کی ، ریفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے علامہ بلال سمائری نے کہا کہ عباس علی شاہ  کا انتقال ہمارا قومی سانحہ ہے ، شاہ صاحب موصوف کی دین اسلام کے لئے  خدمات ناقابل فراموش ہیں ، موحوم نہایت مجذوب و ملنسار شخصیت تھے ، سرزمین گلگت بلتستان میں ملت جعفریہ کی بکھری ہو ئی طاقت کو یکجا کر نے کی ان کی خدمت تاریخ کا حصہ بن چکی ہے ، وحدت مسلمین کے لیئے شاہ صاحب کی کاوشیں ان گنت ہیں ، علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا قیام ان کی اولین کو شش رہی،  سید عباس علی شاہ (مرحوم )تمام مکاتب کے درمیان قابل احترام سمجھے جاتے تھے ، اجلاس کے اختتام پر مرحوم کے خانوادے سے اظہارہمدردی کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی ۔

وحدت نیوز ( پنجاب )08 ستمبر 2013 کو دفاع وطن کنونشن کے موقع پرقائدوحدت، ناصرملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اپیل پر پورے پاکستان میں 13ستمبر کو امریکہ و اسرائیل کے شام پرممکنہ حملے کے خلاف یوم احتجاج کے طور پر منایا گیا۔ملک کے کونے کونے میں حسینی جوان جوق درجوق گھرون سے نکلے اور لبیک یا حسین ؑ کے نعروں سے فضاؤں کو معطر کیا اور امریکہ، اسرائیل اور عربی غداروں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کے20سے زائد اضلاع میں احتجاج کیا گیا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے

صوبائی دارلحکومت میں امامیہ مسجد سمن ٓباد سے شباب چوک تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت مرکزی سیکرٹری تربئیت علامہ احمد اقبال رضوی، سیکرٹری جنرل لاہور علامہ سید امتیاز کاظمی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل لاہور علامہ سید جعفر موسوی نے کی جبکہ شباب چوک پر مقررین نے ممکنہ امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

راولپنڈی میں مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی اور اسلام آباد کی جانب سے مشترکہ احتجاج کیا گیا۔ جس کی قیادت سید ظہیر عباس، سید مسرور نقوی،عون عباس اور زین شاہ نے کی اور مقررین نے اپنے خطابات میں امریکہ و اسرائیل کے بھرپور مذمت کی۔

ملتان میں احتجاجی ریلی مسجد الحسینؑ سے مدنی چوک تک نکالی گئی، جس کی قیادت ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار نقوی، ضلعی سیکرٹری روابط شبر حسین، صوبائی سیکرٹری روابط علی رضا طوری،آئی ایس او کے مرکزی جنرل سیکرٹری جواد الحسن، ڈویژنل صدر تہور عباس حیدری نے کی۔مدنی چوک پر علامہ اقتدار نقوی نے ممکنہ امریکی حملے کی بھر پور مذمت کی اور کہا کہ وہ جو کہ غیر اللہ سے مدد مانگنے کو شرک کہتے کہتے تحکتے نہیں آج ایک اسلامی ملک پر حملے کے لئے امریکہ و ارائیل سے مدد مانگ رہا ہے۔

لیہ میں احتجای ریلی ضلعی دفتر سے نکالی گئی جو کہ صدر بازار چوک پر احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کر گئی مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جبکہ ریلی کی قیادت ضلعی سیکرٹری جنرل جمیل حسین، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید عنصر عباس، سیکرٹری سیاسیات صفدر حسین، مولانا ہادی حسین اور آئی ایس او کے رضوان جعفری نے کی۔مقررین نے اپنے خطابات میں شام کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک میں نام نہاد اسلامی ممالک کی بھر پور مذمت کی۔

سرگودھا میں مرکزی امامبارگاہ سے امام حسینؑ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت مولانا ملک نصیر حسین اور ظفربخاری نے کی، جبکہ بھلوال میں مرکزی امام بارگاہ سے ریلوے چوک تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت مولانا غلام جعفر اور سید مقصود شاہ نے کی۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں مومنین نے ظالم کے خلاف آواز بلند کی۔مقررین نے امریکی و اسرائیلی ممکنہ حملی کی شدید الفاظ میں مزمت کی۔

ساہیوال میں نورشاہ کے مقام پر مرکزی امام بارگاہ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو کہ مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی واپس امام بارگاہ میں اختتام پذر ہوئی۔ریلی کی قیادت ڈپٹی سیکرٹری جنرل غلام اصغر عابدی نے کی اور امریکہ و اسرائیل کے ممکنہ حملے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

پاکپتن میں احتجاجی ریلی ضلعی سیکرٹری جنرل طالب حسین اسدی اور سرپرست انجن حسینیہ سید مروت زیدی کی زیر قیادت نکالی گئی ۔احتجاجی ریلی امام حسینؑ چوک پر جلسہ کی شکل اختیار کر گیا۔مومنین سے طالب حسین اسدی، سید مروت زیدی، مولانا امداد حسین اور مولانا شاہد حسین شمسی نے خطاب کیا جس میں امریکہ و اسرائیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

وہاڑی میں مسجد قائم آل محمدؑ میں احتجاجی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس سے مولانا اختر عباس صادقی، ضلعی سیکرٹری جنرل اعجاز رضا غدیری اور مرید عباس صاحب نے خطاب کیا۔اس موقع پر مقررین نے امریکہ اسرائیل کی مذمت کے ساتھ ساتھ نام نہاد اسلامی ممالک جو کہ امریکی ممکنہ حملے پر خامش ہیں یا پھر امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

شیخوپورہ میں احتجاجی ریلی مسجد ابوذر غفاری سے نکل کر جی ٹی روڈ پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت صوبائی سیکرٹری امور جوانان آغا حسن رضا ہمدای نے کی اور امریکہ و اسرائیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

اوکاڑہ میں دیبالپور کے مقام پر امام بارگاہ سجادیہ تا مدینہ چوک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ضلعی سیکرٹری جنرل سید انوار الحسن زیدی اور دیگر کابینہ کے ارکان نے کی، مومنین نے کثیر تعداد میں شام سے اظہار یکجہتی اور اور امریکہ و اسرائیل کی مذمت کی۔

ضلع ننکانہ میں تحصیل واربرٹن میں دربار حسینؑ سے مین چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ شاہ کوٹ میں مرکزی امامبارگاہ سے ریلی نکالی گئی۔ ریلیوں کی قیادت ضلعی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر تفہیم اور کابینہ کے دیگر ارکان نے کی۔

جھنگ میں امامیہ مسجد سے ریلی نکالی گئی جو کہ تھانہ صدر چوک پر احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کر گیا۔ ریلی کی قیادت ضلعی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس اور کابینہ کے دیگر ارکان نے کی۔ اخر میں مقررین نے اپنے خطابات میں امریکہ واسرائیل کی شدید مذمت کی۔

ڈیرہ غازی خان میں پاکستان چوک سے ٹریفک چوک تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت ضلعی سیکرٹری جنرل مولانا سعید ناصر اور کابینہ کے دیگر افراد نے کی۔ جبکہ آخر میں مولانا سعید ناصر نے خطاب کیا۔

اس کے علاوہ سیالکوٹ، چنیوٹ، قصور، جہلم، خانیوال سمیت مختلف علاقوم میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور امریک و اسرائیل کے خلاف شدید مذمت کی گئی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree