The Latest

وحدت نیوز(لاہور)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان لاہور ڈویژن کا ایک اہم اجلاس فلاح و بہبود اور رمضان میں خدمات کے حوالے سے منعقد ہوا ، اجلاس میں لاہور ، قصور ، شیخوپورہ اور ننکانہ کے سیکرٹری فلاح و بہبود اور ڈپٹی سیکرٹری نے شرکت کی، اس اجلاس میں خیرالعمل فاونڈیشن صوبہ پنجاب کے مسئول جناب مسرت کاظمی خصوصی طور پر شرکت کے لئے تشریف لائے ۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری لاہور ڈویژن شیخ عمران علی نے کہا کہ خدمت ِ انسانیت کے زریعے ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ممکن ہے ،ملت تشیع میں بہت سے افراد فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، مگر بہت سے افراد مناسب روابط نہ ہونے کے باعث باوجود استطاعت رکھنے کے یہ خدمت نہیں کر پاتے ، ہمیں خیر العمل کے منظم ترین سیٹ اپ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مل چکا ہے جس کی مدد سے ہم یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں ۔ لاہور ڈویژن میں ضرورتمند جوڑوں کی اجتماعی شادی کا پروگرام زیرِ غور ہے ، جو انشاء اللہ جلد پیش کر دیا جائے گا۔

 

سیکرٹری فلاح و بہبود سید فصاحت علی بخاری نے کہا کہ فلاح و بہبود کے پروجیکٹس ملت کی خدمت کے لئے ہیں ، معاشی طور پر مضبوط قوم اپنے مخالفین کا زیادہ بہتر مقابلہ کر سکتی ہے ، ہمیں ملت کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملت کے نادار ، ضرورتمند ، بیوگان یتامیٰ کی خدمت کرنا ہے ۔

 

خیرالعمل فاؤنڈیشن صوبہ پنجاب کے مسئول مسرت کاظمی نے خیرالعمل فاؤنڈیشن کے بارے میں بریفنگ دی، مختلف شعبوں اور طریق کار کے بارے میں بتایا ، انہوں نے بتایا کہ اس نیک کام کے آغاز سے ہی خدا کے فضل و کرم سے اتنی پذیرائی اور لوگوں کی توجہ حاصل ہوئی جس کی توقع نہیں تھی ، سیلاب زدگان کے لئے کی جانے والی کروڑوں روپے کی منظم امداد کارکنان کی کاوشوں اور خدا کے خاص کرم سے ممکن ہوئی ، خیرالعمل فاؤنڈیشن تعمیراتِ مساجد ، امام بارگاہ، سکول ،ہسپتال ، واٹر فلٹریشن پلانٹس اور اس طرح کے کئی پراجیکٹس مکمل کر چکی ہے ، اور درجنوں پراجیکٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں ، ڈونرز سے رابطہ ، انہیں پروجیکٹ کی موجودہ صورتحال بتاتے اور دکھاتے رہنا ڈونرز کے اعتماد کا باعث ہے۔

 

ماہِ رمضان میں خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہر ضلع اپنے وسائل کے زریعے کم از کم دو سو ضرورت مندوں تک راشن پہنچائے ، ایک مناسب مقدار میں ضروریات کی اشیاء اس پیکج میں شامل ہوں ،ہم اس کام کا آغاز اپنے آپ سے کریں، پہلا راشن کا پیکٹ اپنی طرف سے دیں ، مستحقین وہ لوگ جو کسی کے آگے دستِ سوال نہیں پھیلاتے ، ہمارا ٹارگٹ ہیں ، غیر محسوس طریقے سے عزتِ نفس کو مدِ مظر رکھتے ہوئے ان تک رسائی حاصل کی جائے اور آئمہ اطہار کے پیروکار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کسی تشہیر کے بغیر ان کی مدد کی جائے ، یہ سلسلہ ڈونرز اور ضرورتمند کے درمیان رابطے کی صورت میں اگلے مہینوں میں بھی چلایا جا سکتا ہے ۔ رمضان کے آخری عشرے کو ایتام سے منسوب کیا جائے اور اس عشرے میں ملت کے یتیم بچوں بچیوں کی کفالت کے لئے انتظامات کئے جائیں ۔خیرالعمل فاؤنڈیشن اس کام کا آغاز کر چکی ہے ،اس کام کو ماہِ مبارک رمضان میں مذید فعال بنایا جائے، ملت کا یہ طبقہ ہماری خاص توجہات کا متقاضی ہے، ملت کے مخیر حضرات کا ان ایتام سے رابطہ مستقل بنیادوں پر استوار کرانے میں ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ہمیں اپنا نظامِ مالیات منظم کرنا ہو گا، اور معاملات میں خود کفالت کی طرف جانا ہوگا، اس کے لئے عنقریب ایک منظم ، جامع پلان دیا جائے گا، تاکہ ہم ملت کو خود کفیل بنانے کی طرف قدم بڑھا سکیں، اس اجلاس کے اختتام پرشرکاء کی خدمت میں افطار و طعام بھی پیش کیا گیا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) کوئٹہ میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن، ایم پی اے یوسف شاہوانی نے ایک وفد کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی اور رکن صوبائی اسمبلی آغا سید محمد رضا سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں کو کراچی میں پاک فوج اور آپریشن کی حمایت میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کو ملک و ملت کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کراچی میں معصوم انسانوں خصوصاً شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر شدید تشویش ہے۔ ہم آپ کے توسط سے ایم کیو ایم کے قائد اور رہنماؤں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ پاک فوج کی حمایت میں اجتماع کو مثبت اقدام سمجھتے ہیں مگر اس میں شرکت کا فیصلہ ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی قیادت کرے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی آغا سید محمد رضا نے کہا کہ ہم محب وطن ہیں۔ اس لئے اتنے مظالم سہنے کے باوجود ہم نے وطن کی عزت و سربلندی اور بقاء کے لئے قربانی دی۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے یوسف شاہوانی نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے خلاف اور پاک فوج کی حمایت میں 6 جولائی کو کراچی میں تاریخی اجتماع ہوگا۔ ہماری خواہش ہوگی کہ اس تاریخی اجتماع میں مجلس وحدت مسلمین کی قیادت شریک ہو۔ ملاقات میں علامہ ولایت حسین جعفری، ڈاکٹر اقبال نظر، سید یوسف آغا، سلیم اختر ایڈووکیٹ و دیگر موجود تھے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل سید احسن رضوی نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر میں ترقیاتی کاموں کی جھوٹی داستانیں سنائی جا رہی ہیں ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام خوش فہمی میں نہ رہیں۔ جھوٹ بول کر ملیر کے عوام گمراہ نہیں کیا جاسکتا، سیا سی جماعتیں گزشتہ بیس سالوں سے ملیر کے عوام کو بے و قوف بنا رہی ہیں ۔پانی کی فراہمی سے لیکر نکاسی آب اور سڑکوں کی مرمت تک کے دعوے کئے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر کسی قسم کے اقدامات نظر نہیں آتے ۔عوامی نمائندگان محض میڈیا کوریج اور میڈیا پرکار کردگی دکھانے کیلئے ہی نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملیر کے کئی علاقے سیوریج کے پانی سے ڈوبے ہوئے ہیں ۔سڑکیں بالکل ختم ہو چکی ہیں جن پر پیوند کاری کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ حلقہ کے عوامی نمائندے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے چلے آرہے ہیں کہ ملیر میں سڑکوں پر کارپٹ روڈ ڈالے گئے ہیں اور اسی طرح سفائی ستھرائی کا نظام بھی شدید متاثر ہ ہے جس پرہم میڈیا کو دعوت دیتے ہیں کے وہ ملیر ٹاؤن اوراس کی آبادیوں کابا قاعدہ دورہ کریں، ملیرسعود آباد ،ملیر پندرہ ،شیش محل ، جعفرطیار،بی ایریا سمیت بہت سے علاقے ہیں جن میں نکاسی آب اورصٖفائی ستھرائی کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا۔ ۸۰فیصد بلنگ ریکوری کے با وجود غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے عوام تنگ آگئے ہیں جبکہ ملیر سے منتخب عوامی نمائندگان کی گلیوں میں لوڈ شیڈنگ کا تصور بھی نہیں پایا جاتا ۔احسن رضوی نے ڈائریکٹر کے الیکٹرک ،ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت وفاقی حکومت و وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کے وہ ضلع ملیر کے ترقیاتی کاموں کی ابتر صورتحا ل کا فوری نوٹس لیں اور عوامی مسائل کے حل کیلئے تر جیحاتی بنیادوں پر کاموں کا آغاز کیا جائے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) خیرالعمل فاؤنڈیشن پاکستان کے ممبر بورڈ آف گورنرز علامہ اعجاز بہشتی نے کہا کہ ماہ رمضان برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے یہ مہینہ اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیے ایک انمول تحفہ ہے جس میں ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کا موقع میسر آتا ہے ہمارے آئمہ اطہارؑ کا بھی مستضعفین، غرباء اور یتیموں کی پرورش و مدد کرنا شیوہ تھا۔ خیرالعمل فاؤنڈیشن بھی دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ لیکر میدان میں اتری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیرالعمل فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

علامہ اعجاز بہشتی نے کہا کہ ماہ مقدس کے مہینے سے ہمیں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیئے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کریں اور ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس کار خیر میں شامل ہونے کی ترغیب دینی چاہیے۔ انہوں نے خیرالعمل فاؤنڈیشن کی کارکردگی اور مرکز سے لیکر ضلع تک کے عہدیداران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج خیرالعمل فاؤنڈیشن جس مقام پر ہے یہ آپ تمام برادران کی مشترکہ جدو جہدکا نتیجہ ہے درجنوں پراجیکٹس کا مکمل ہونا اور بیسیوں پر کام جاری ہونا ٹیم ورک اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے اس کار خیر میں ہر فرد کو شامل ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہماری آخرت سنور جائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایک وفد کے ہمراہ ہوم سیکریٹری بلوچستان اکبر حسین درانی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آر پی او کوئٹہ منیر احمد بھی موجود تھے۔ وفد میں مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری مولانا ولایت حسین جعفری ، ڈاکٹر اقبال نظر اورعبدالحکیم عمرانی بھی موجود تھے۔

 

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ زائرین کے مسئلے پر ملت جعفریہ کو حکومتی پالیسی پرشدید تحفظات ہیں، زائرین کے لئے نہ تو فیری سروس شروع کی گئی اور نہ ہی زمینی راستہ میں سیکورٹی دی جا رہی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کا خیر مقدم کرتے ہوئے بلوچستان میں بھی لشکر جھنگوی کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے ہوم سیکریٹری کو بارہ نکاتی تجاویز پیش کیں جس میں مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں کالعدم جماعتوں کے شر انگیز بیانات کو روکا جائے۔

 

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہوم سیکریٹری اکبر درانی نے کہا کہ وزیرستان آپریشن کے پیش نظر ہم بلوچستان میں دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم علامہ مقصود علی ڈومکی کی امن تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، ان پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوٹھ آچر عمرانی میں متاثرین کی درخواست پر انکوائری کریں گے، پولیس قانون کی پابند ہے اسے بے گناہ لوگوں کے گھر جلانے کا اختیار نہیں ہے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری , مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی نے جناح ہسپتال لاہور میں معروف شیعہ رہنما الحاج حیدرعلی مرزا کی عیادت کی اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی الحاج حیدر علی مرزا  گذشتہ کئی دنوں سے جناح ہسپتال میں زیرعلاج ہیں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اُن کے قومی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ الحاج حیدر علی مرزا صاحب اتحاد بین المسلمین کے داعی اور ملت جعفریہ کا سرمایا ہیں  خدا ان کا سایہ ملت اسلامیہ پر تا دیر قائم رکھے اور انہیں جلد مکمل صحت یابی عنایت کرے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء  اور رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا نے کہا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا ایک ایک پیسہ حلقے کے عوام کی امانت ہے اور یہ امانت لوگوں تک مختلف ترقیاتی کاموں کے ذریعے احسن طریقے سے پہنچ رہی ہے۔ سڑکوں کی مرمت کا کام زور و شور سے جاری ہے اور کام انتہائی تسلی بخش اور ماہرین کی نگرانی میں ہو رہا ہے لیکن بعض عناصر کو ترقیاتی کاموں سے اللہ واسطے کا بیر ہے وہ نہیں چاہتے کہ غریب عوام تک ترقیاتی اسکیموں کا فیض پہنچ سکے۔ ترقیاتی اسکیموں کا دائرہ صرف سڑکوں کی مرمت تک ہی محدود نہیں بلکہ بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس میگا پروجیکٹ پر کام انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ دل سوز، غم سوز و عجیب و غریب نام سے نام نہاد فلاحی ادارہ کو چلانے والے نام نہاد عناصر جب بیرون ملک سےغریبوں کے نام پر آنے والے پیسوں سے عیاشیاں کرتے ہیں، اس وقت ان کو غیرت کیوں نہیں آتی۔؟ اصل میں رد شدہ نام نہاد لیڈر ترقیاتی کاموں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ مسلسل الیکشن میں ناکامی کے بعد کچرا سیاست شروع کرنا انکا شیوہ رہا ہے۔ جب ان کو موقع ملا تھا اس وقت ترقی کے نام پر ایک اینٹ تک نہیں رکھی گئی۔ اب ان سے ترقیاتی اسکیموں کے تسلی بخش کام کی افادیت ہضم نہیں ہو رہی۔ پی بی 2 کی عوام اب سکون کا سانس لے رہی ہے کیونکہ ان کا حقیقی منتخب نمائندہ ان کی دہلیز پر ان کو وہ ساری سہولیات پہنچا رہا ہے جن کا ماضی میں لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ عوام کا حقیقی منتخب نمائندہ آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ لوگوں کے مسائل کا مداوا کرتا رہے گا۔ چاہے یہ بات کسی کو کتنا ناگوار کیوں نہ گزرے۔ عوام کا پیسہ اگر عوام پر خرچ ہو رہا ہے تو اس پر اتنا سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔؟ ویسے بھی آپ دوسروں کے کام کا کریڈٹ لینے سے ذرا بھر نہیں شرماتے اور چھاتی ٹھونک کر انتہائی بے شرمی اور بے ضمیری سے معصوم عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اب عوام کی آنکھیں کھل گئیں ہیں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جان گئے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل میں کون دلچسپی لے رہا ہے اور کون صرف ایک گلی تک محدود صرف پروٹوکول کو ترس رہا ہے۔

وحدت نیوز(ٹیکسلا) مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ٹیکسلا میں بیاد شہداء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم علامہ ناصر عباس جعفری، علامہ عبدالخالق اسدی، خانم سکینہ مہدوی، علامہ اصغر عسکری، علامہ سبطین حسینی، علامہ مہدی رضا شیرازی و دیگر نے شرکت کی۔ ٹیکسلا میں منعقدہ کانفرنس میں عیسائی برادری کے ایک وفد نے بھی شرکت کی۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے شہداء کی تصاویر پر مشتمل ایک نمائش کا اہتمام کرکے شہداء کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

 

علامہ اصغر عسکری کا کہنا تھا کہ اس مکتب اور عزاداری کو کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی کیونکہ کربلا والوں نے اس مکتب کی خون سے آبیاری کی۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ شہید کے پیغام کو پھیلائیں، شہید پیغام دے رہا ہے کہ اپنے مکتب کا دفاع کرنے کے لئے بھرپور تیاری کرکے میدان عمل میں اتریں، ہمارا مکتب یہ نہیں کہتا کہ اگر تمہارے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا حاضر کر دو بلکہ ظلم کا جواب دینا واجب ہے، ظلم کے مقابلے میں خاموشی جرم اور حرام ہے۔

 

مرکزی انچارج شعبہ خواتین ایم ڈبلیو ایم پاکستان خانم سکینہ مہدوی کا بیاد شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دور حاصر میں تشیع دستہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ خدا کہہ رہا ہے کہ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جاو۔ خدا کی رسی ولایت و امامت ہے۔ جو ولایت کی اس رسی کو تھام لے گا نہ تفرقہ ڈالے گا نہ تفرقے کو حصہ بنے گا۔ مولا علی (ع) کے چاہنے والوں کو بانٹنے والے کیسے ممکن ہے رسول رحمت (ص) کی نظروں میں نہ گریں۔ شہید بہشتی فرماتے ہیں کہ وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے جو اپنے شہداء کو بھلا دیتی ہے۔ شہید دنیا والوں کو شجاعت و شہامت بانٹتا ہے۔ دشمن کے سامنے ڈٹ جانا اور اپنے مشن سے ذرا برابر بھی پیچھے نہ ہٹنا شہید کی یاد منانے والوں کے لئے تحفہ ہے۔ شہید کا اعزاز ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتا ہے۔

 

مرکزی مسئول شیعہ خواتین نے کہا کہ پاکستان کی ماوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ہر ہر بیٹے کو مشن حسینی پر قربان کرسکتی ہیں۔ چودہ معصومین (ع) میں سے تیرہ معصومین (ع) کو اللہ تعالٰی نے شہادت عطا کی، ایک معصوم (ع) کو پردہ غیبت میں رکھا، اس شہادت کا راز صرف اور صرف یہ تھا کہ انہوں نے زمانے کے ظالموں کے سامنے ڈٹ جانے کو ترجیح دی۔ اب جو بھی دشمن کو للکارے گا، اس کی پشت پر چودہ معصومین (ع) کی طاقت ہوگی۔ معصوم (ع) پردہ غیبت میں ہیں، اس عجیب زمانہ میں ہم دستہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ خدا کہہ رہا ہے کہ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جاو۔ خدا کی رسی ولایت و امامت ہے۔ جو ولایت کی اس رسی کو تھام لے گا نہ تفرقہ ڈالے گا نہ تفرقے کو حصہ بنے گا۔ مولا علی (ع) کے چاہنے والوں کو بانٹنے والے کیسے ممکن ہے رسول رحمت (ص) کی نظروں میں نہ گریں۔

 

مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ اللہ کی حزب بننے کے لئے اللہ کی ولایت کے اندر قدم رکھنا ہوگا، اللہ کی ولایت تک پہنچنے کے لئے علی کے آستانہ ولایت پر سر جھکانا ہوگا، جس طرح علی باب مدینۃ العلم ہے اسی طرح علی کی ولایت باب ولایت اللہ ہے۔ آپ نے دیکھا لبنان کے شیعوں کو جب وہ علی (ع) کی ولایت میں نہیں تھے، تو کوئی کمیونسٹ پارٹی میں تھا، کوئی نیشنلسٹ پارٹی میں تھا، کوئی شیعہ عیسائی پارٹی میں تھا، سب ان پر غالب تھے اور یہ مغلوب تھے۔ اس لئے غالب آنے کے لئے غالب علی کل غالب کو ولی ماننا پڑے گا۔ لیکن جب حزب اللہ بنی، علی (ع) کی ولایت کا پرچم اٹھایا تو اس دنیا کی بہت بڑی طاقت بن گئے اور اسرائیل جیسے دشمن پر غالب آئے، پوری دنیا کی انٹیلی جنس اور شام میں دنیا کے 83 ملکوں کے دہشت گردوں پر غالب آئے، چونکہ انہوں نے علی (ع) کی ولایت کو پرچم اٹھایا اور تمام جماعتوں کی ولایت کو چھوڑ دیا۔ سید مقاومت نے للکار کر کہا کہ اے اسرائیل کے وزیراعظم کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ہے، میں حیدر (ع) کا بیٹا ہوں۔ جب بھی سید حسن نصراللہ سے ملاقات ہوتی ہے تو ان سے حالات جنگ دریافت کرتا ہوں۔

 

ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک مجاہد کو واقعہ سنایا جو میزائل فائر کرنے اپنے مورچہ سے باہر آیا، اسی دوران اسرائیلی جہازوں نے اسے دیکھ لیا اور مجاہد کو یقین ہوگیا کہ اس کا اب بچنا ناممکن ہے، اس کی زبان سے تین بار نکلا یاعلی (ع) ادرکنی، یہ کہتا ہے کہ میں نے کیا دیکھا کہ ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے میزائل کو دو ٹکڑے کرکے پرے پھینکا، مجاہد کہتا ہے کہ میں نے اس شخص سے پوچھا کون ہو تم میری مدد کرنے والے تو اس شخص نے کہا کہ کیا تو نے مجھے ابھی مدد کے لئے پکارا نہیں تھا، مولا (ع) مدد کو آتے ہیں اگر ان کے ولایت میں آجاو تو، آپ مجھے بتائیں کیا پیپلزپارٹی اللہ کی حزب ہے۔ اسی طرح نون لیگ، قاف، لام، ی، و، ر، ز اور دیگر یہ اللہ کی حزب نہیں بلکہ حزب شیطان ہیں۔ ہم پانچ کروڑ سے زیادہ شیعہ ہیں، ہم اگر پرچم ولایت تلے جمع ہوجائیں تو اس دھرتی کے خیبر کو فتح کرسکتے ہیں۔

وحدت نیوز (تہران) رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے محفل انس با قرآن کے شرکاء سے خطاب میں خالص محمدی (ص) اسلام اور امریکی اسلام کے بارے میں حضرت امام خمینی (رہ) کی حکیمانہ تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکی اسلام کا نام بھی بظاہر اسلام ہے لیکن امریکی اسلام کی صہیونزم اور طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ساز باز ہے وہ طاغوتی اور مستکبر طاقتوں کی ولایت قبول کرتا ہے اور مکمل طور پر امریکہ اور طاغوت کے اہداف اورمفادات کی خدمت میں ہے۔


مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک اللہ تعالی کی رحمت اور ضیافت اور قرآن مجید کی بہار کا مہینہ ہے رمضان المبارک کے پہلے دن حسینیہ امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں محفل انس باقرآن منعقد ہوئی ، جس میں قرآن مجید کے ممتاز قاریوں اور حافظوں نے قرآن مجید کی نورانی آیات کی تلاوت کا شرف حاصل کیا اورقرآنی مجموعہ نے گروہی طور پر بھی قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کو پیش کیا اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بجا لائے۔

 

اس نورانی محفل میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اپنے خطاب میں اسلامی معاشرے کو قرآن مجید کے ساتھ انس و فہم پیدا کرنےکے سلسلے میں قرآنی موضوعات میں سرگرم افراد کے کام کو بہت ہی گرانقدر، اہم اور اسٹراٹیجک قراردیتے ہوئے فرمایا: پروگرام اس طریقہ سے مرتب کرنا چاہیے تاکہ تمام افراد قرآن مجید کے معانی اور مفاہیم سے آگاہ اور مانوس ہوسکیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قرآن کے ساتھ روز افزوں انس کی بنا پر اسلامی معاشرے کے اندر استحکام پیدا ہوتا ہے اور یہی اندرونی استحکام ہے جو معاشرے و سماج کو چلینجوں سے عبور کرنے کی طاقت اور قدرت عطا کرتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایمان کی مضبوطی، اللہ تعالی پر توکل،اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور مادی مشکلات سےخوفزدہ نہ ہونے کو انس با قرآن کے برکات اور فوائد قراردیتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید میں غور و تدبر، اسلامی معاشرے کو گمراہی اور خرافات کی ظلمتوں ووہم و خوف کی تاریکیوں سے نجات دلاتا اور اللہ تعالی کی معرفت و شناخت کی طرف ہدایت کرتا ہے اور آج یہ عالم اسلام کے لئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سلسلے میں ایک بنیادی ضرورت ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امت اسلامی کی بصیرت کے اضافہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنان اسلام اسی حقیقت سے خوفزدہ ہیں اور اسی لئے وہ اسلام کے نام پر اور اسلام کے سائے میں اسلام کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے خالص محمدی (ص) اسلام اور امریکی اسلام کے بارے میں حضرت امام خمینی (رہ) کی حکیمانہ تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکی اسلام کا نام بھی بظاہر اسلام ہے لیکن امریکی اسلام کی صہیونزم اور طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ساز باز ہے وہ طاغوتی اور مستکبر طاقتوں کی ولایت قبول کرتا ہے اور مکمل طور پر امریکہ اور طاغوت کے اہداف اورمفادات کی خدمت میں ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض اسلامی ممالک منجملہ عراق میں جاری بحران اور کشیدگی کے پیچھے دشمن کے جاسوس اداروں کے آشکارا نقش و کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انس باقرآن اور تعلیمات قرآنی سے آشنائی امت اسلامی کو اس قسم کے حوادث کی روک تھام میں مدد بہم پہنچائے گی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر قرآنی سرگرم افراد کو دینی قوانین اور اصولوں پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے مایہ ناز قرآنی معاشرے کو جوانوں کے لئے عملی نمونہ ہونا چاہیے۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصرعباس جعفری آج کل پنجاب کے بھرپوردورہ جات کر رہے ہیں اور تنظیمی فعالیت کو بڑھا رہے ہیں، ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے گذشتہ دنوں میں بلتستان میں ایک تاریخی جلسہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجلس وحدت مسلمین نے آئندہ الیکشن میں بھرپور حصہ لینے کا بھی اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز نے علامہ ناصر عباس جعفری سے طالبان کے خلاف جاری فوجی آپریشن، نواز حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس اور گلگت بلتستان میں سال کے آخر میں ہونے والے الیکشن میں اپنائی جانے والی پالیسی پر ایک جامع انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

 

اسلام ٹائمز: حکومت کا پہلے طالبان سے مذاکرات کرنا اور اب فوج کے آپریشن کے اعلان کے بعد حمایت کا اعلان، اس ساری صورتحال کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ حقیقت میں طالبان کی مدد کرنا اور ان دہشتگردوں کو مضبوط بنانا تھا اور عوام میں ان کے خلاف موجود نفرت کو کم کرنا تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں جو سپورٹ سکیورٹی اداروں کو ملنی چاہئے تھی اس میں کمی آئی۔ ہماری سیاسی حکومت نے طالبان کی وکالت کی اور انہیں اسٹیک ہولڈر بنا دیا اور انہیں ریاستی اداروں کے مقابلے میں لیکر آگئے۔ دہشتگردوں کے بارے میں یہ رائے رکھنا کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں حقیقت میں سرنڈر کرنا ہے۔ مذاکرات کی بات کرنے سے مراد حقیقت میں شکست تسلیم کرنا ہے، حکومت کی طرف سے اس حد تک طالبان کو فری ہینڈ اس لئے دیا گیا تھا کہ کیونکہ طالبان نے انہیں الیکشن میں سپورٹ کیا تھا اور ان کے مدمقابل قوتوں کو الیکشن کمپین نہیں چلانے دی گئی تھی۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو الیکشن کے دوران اٹھا لیا جاتا ہے اور وہ آج تک طالبان کے پاس ہے، ہماری حکومت نے اس کو چھڑانے کیلئے کیا کیا ہے؟ عجیب نہیں کہ ملک کے اندر سے ایک بندہ اغوا کر لیا جاتا ہے اور ملک کے اندر ہی اسے رکھا جاتا ہے اور کوئی چھڑوا نہیں سکتا، ان طالبان نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی تھی، اور ہمارے حکمران ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے رہے اور انہیں فرصت دیتے رہے۔ کراچی واقعہ کے بعد پاک فوج نے حکومت پر دو جمع دو کی طرح واضح کر دیا کہ ہم آپریشن کرنے جا رہے ہیں، آپ نے دیکھا کہ جب فوج نے اعلان کر دیا تو نواز شریف نے دو دن بعد اعلان کیا۔ اس سارے عمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ دہشتگردی سے متعلق فوج اور حکومت کہاں کھڑی ہے۔ الحمد اللہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک یہ آپریشن جاری رہے گا اور پاک فوج اپنے عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی۔

 

اسلام ٹائمز: میاں صاحب نے قومی اسمبلی سے خطاب میں دہشتگردوں کے خلاف فوج کی حمایت اور آپریشن کا تو اعلان کیا لیکن فرقہ وارنہ دہشتگردی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: آپ دیکھیں ناں کہ فرقہ وارنہ دہشتگردی کے پیچھے بھی یہی قوتیں ہیں جن کے خلاف فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے، جب فرقہ وارنہ دہشتگردی کرنا ہوتی ہے تو اس کیلئے لشکر جھنگوی کا نام استعمال کیا جاتا ہے، جب ریاستی اداروں اور فوج پر حملے کرنا ہوں تو طالبان کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ تمام ایک ہی سوچ کے حامل لوگ ہیں جنہیں ہم تکفیری کہتے ہیں۔ اگر تکفیری سوچ کو کچل دیا جائے تو ہمارا ملک ترقی کریگا اور اس ملک میں خوشحالی آئی گی۔ ان کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ نمٹنا ہوگا۔ اس آپریشن کو فقط شمالی وزیرستان تک محدود رکھنا درست نہیں، ان مدارس اور لوگوں کو بھی پکڑنا ہوگا اور کچلنا ہوگا جو ان کیلئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں اور انہیں مختلف شہروں میں پناہ دینے کے ساتھ ساتھ مکمل مدد فراہم کرتے ہیں۔

 

اسلام ٹائمز: میاں صاحب کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق میاں صاحب نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انکا فوج سے تصادم ہے، اس پر کیا کہیں گے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: نواز شریف پاکستان میں تیرہ سال بعد واپس آئے ہیں اور وہی پرانا ذہن لیکر آئے ہیں جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان کے خاص حالات اور خاص خصوصیات ہیں، یہاں میاں صاحب سعودی عرب کے اسٹریٹیجک پاٹنر ہیں۔ یہاں سعودی عرب کے شہزادوں کا آنا جانا تیز ہوگیا، ہزاروں لوگوں کو بحرین بھیجا گیا، 25 ہزار پاکستانیوں کو بحرین کی قومیت دی گئی ہے۔ ان کا کام وہاں کے مظلوم لوگ جو گذشتہ چار برسوں سے جمہوریت کی تحریک چلا رہے ہیں، اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں، اس تحریک کو کچلنے کیلئے ان افراد کو وہاں کیلئے بھرتی کیا گیا۔ پاکستان کے اندر نواز شریف کی حکومت سعودی عرب کی اسٹریٹیجک پارٹنر بن چکی ہے، ضیاءالحق کے دور کی پالیسی کو دہرایا جا رہا ہے، شام کے معاملے پر ان کا اسٹینڈ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شفٹ آیا ہے۔ پاکستان اور اس کے اطراف میں تبدیلیاں آ رہی ہیں ان حکمرانوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ بزنس مین لوگ ہیں، انہیں اپنے بزنس کی فکر پڑی ہے۔ ملکی مفاد پر اپنے بزنس کو فوقیت دیتے ہیں۔ پاکستان کی یہ جعلی قیادت ہے جو دھاندلی کے ذریعہ اقتدار میں آئی ہے، اگر حقیقی قیادت ہوتی تو یہ تبدیلی نہ آتی۔
ان لوگوں نے فوج کو ایسے پرندے کی ماند بنانے کی کوشش کی ہے جو پنجرے میں بند ہو، وہ پھڑ پھڑا تو سکے لیکن اڑ نہ سکے۔ فوج پر میڈیا، علاقائی ممالک اور دیگر پریشرز ڈلوائے گئے جس کا مقصد یہی تھا کہ میاں صاحب اپنی طاقت میں اضافہ کریں، جس کے نتیجے میں یہ اتنے طاقتور ہوجائیں کہ وہ کریں جو سعودی عرب چاہتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ پاکستان کے داخلی اور خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کا نقش اور رول بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ سمجھدار ہوتے تو یہ ایسا نہ کرتے، کسی بھی معاملے پر جہاں اختلاف پیدا ہوجاتا تو یہ اس سے لاتعلق ہو جاتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، آپ نے راولپنڈی میں عاشور کا واقعہ دیکھا کہ انہوں نے کھل کھلا کے تکفیری ٹولے کا ساتھ دیا اور آج تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں، کیا حکومت اور اسٹیٹ اپنے عوام کے خلاف کھڑی ہوتی ہے یا فریق بنتی ہے۔؟ راولپنڈی کے واقعے میں پنجاب حکومت ہمارے مقابلے میں آئی ہے، اس واقعہ میں وکیل پنجاب حکومت نے کیا۔ عملی طور پر نون لیگ کی حکومت تکفیریوں کی سرپرست حکومت ہے۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ تکفیری ٹولہ نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہونے والا ہے، جیسے ہی حقیقی لیڈر شپ کیلئے کوئی تحریک چلے گی، ان تکفیریوں کے بیانات سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ وہ افراد جنہیں 35 سالوں سے پشت پناہی کی گئی، وہ نواز شریف کےساتھ  کھڑے ہوجائیں گے۔

 

اسلام ٹائمز: ڈاکٹر طاہرالقادری ایک بڑے اتحاد بنانے کے خواہش مند ہیں اور اس حوالے سے کوششیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں، مجلس وحدت مسلمین کس حد تک اس حوالے سے انکے ساتھ ہوگی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان میں ہر وہ اتحاد جو پاکستان کو سعودیوں کے قبضے اور استعماری ایجنٹوں سے نجات دلائے، دھاندلی زدہ لوگوں سے نجات دلائے، تکفیریوں کے حامیوں سے نجات دلائے، ایسا اتحاد جو پاکستان میں نفرتوں کو مٹائے اور امن کو فروغ دے، ناامنی کے خاتمے کیلئے کام کرے، محبت اور امن کو فروغ دے، ہم اس کا ساتھ دیں گے اور اس سے لاتعلق نہیں رہیں گے۔ ہم اس وطن کے اندر تکفیری ٹولے کی شکست کیلئے جس نے 35 سال سے اس ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور ملک کو تباہی کی طرف لے گئے ہیں، انکے خلاف جو بھی حقیقی تحریک چلے گی، ہم اس کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

 

اسلام ٹائمز: اگر تحریک کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے اور کوئی آمریت نافذ ہوجاتی ہے تو پھر کیا ہوگا۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: نواز شریف کی حکومت ایک جعلی حکومت ہے جو دھاندلی کرکے ایوانوں میں پہنچی ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے، سب کا اتفاق ہے کہ پاکستان کے اندر دھاندلی ہوئی ہے، ایسے حکمرانوں کو کیا حق ہے کہ وہ حکمرانی کریں، جن لوگوں نے ریٹرننگ افسران کے ذریعہ مینڈیٹ چرایا ہو، اور ڈاکہ ڈالا ہو، انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ حکومت کریں، پاکستان میں جمہوری اصلاحات لانی پڑیں گی، دھاندلی سے پاک اور آزاد الیکشن کمیشن کا قیام لانا پڑیگا، جدید طرز الیکشن کا استعمال کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں جتنے بھی طبقات ہیں انہیں احساس محرومی سے نکالنے کیلئے ایک ایسے انتخابی نظام کو رائج کرنا ہوگا جس سے لوگوں کو اطمینان ہو، اس وقت جو بہترین نظام ہے وہ متناسب نمائندگی کا نظام ہے، جس کے تحت پارلیمنٹ میں تمام طبقات کی نمائندگی ہوگی اور وہ اپنے حقوق کی بات کرسکیں گے۔ اس سے طبقات کے اندر احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا اور اس سیاسی مافیا سے بھی نجات ملے گی، اگر ان تمام چیزوں کیلئے کوئی گرینڈ الائنس بنتا ہے جس میں ان تمام ایشوز پر بات کی جاتی ہے تو ہم اس کا حصہ بنیں گے۔

 

اسلام ٹائمز :گلگت میں آپ لوگوں نے ایک تاریخی جلسہ کیا، آئندہ انتخابات کے حوالے سے وہاں پر آپکی کیا حکمت عملی ہوگی۔ کہیں آپ لوگوں کی موومنٹ سے شیعہ ووٹ تقسیم تو نہیں ہوگا۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: گلگت بلتستان کے اندر مجلس وحدت مسلمین کافی مضبوط ہے، مجلس کے لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور اس کیلئے اسٹینڈ لیتے ہیں اور حقیقی لوگ ہیں جو ان کی جنگ لڑ رہے ہیں، عوام ہم پر اعتماد کر رہے ہیں، بارہ دن کے دھرنوں نے ثابت کیا کہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت عوام کے حقوق کیلئے لڑنے والی ہے نہ کہ جھکنے اور بکنے والی قیادت ہے۔ یہ اسی اعتماد کا نتیجہ تھا کہ اٹھارہ مئی کو گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع کیا، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں شیعہ سنی اور نور بخشی سمیت تمام طبقات نے شرکت کی۔ ہم الیکشن میں مذہب کی بنیاد پر نہیں جائیں گے۔ ہم اہلیت، لیاقت، استعداد اور قابلیت کی بنیاد پر جائیں گے۔
ہم لوگوں کے پاس جائیں گے اور کہیں کہ یہ ہمارا امیدوار ہے، اگر آپ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے اہل سمجھتے ہیں تو اسے اپنی خدمت کیلئے ووٹ دیں۔ ہم شیعہ، سنی، نور بخشی سب ملکر الیکشن لڑیں گے اور اہل لوگوں کو لیکر آئیں گے، تاکہ 67 سال سے محروم لوگوں کی احساس محرومی کو ختم کیا جا سکے، انہیں انکے حقوق دلوائے جاسکیں، وہاں ترقی اور پیشرف ہوسکے، بہترین اسکولنگ سسٹم ہو، بہترین ہیلتھ کا نظام متعارف کرا سکیں، لوگوں کی معیشت بہتر سکے، اگر دیندار، امانت دار اور انصاف پنسد لوگوں کو آگے لایا گیا تو وہاں کے لوگوں کی 67 سال کی احساس محرومی کو سالوں میں ختم کیا جا سکتا ہے، لوگ تبدیلی دیکھیں گے۔ مجلس وحدت کوشش کرے گی اس انداز میں انتخابات میں داخل ہو کہ وہاں کے لوگ اطمینان محسوس کریں، حساسیت پیدا نہ ہو، ہراسمنٹ پیدا نہ ہو، کوئی طبقہ خوف زدہ نہ ہو، ہم سنی، شیعہ، اسماعیلی اور نوربخشی سمیت تمام طبقات کو ساتھ رکھیں گے۔ ہم کوشش کریں گے وہاں ایک خوبصورت الیکشن کرایا جاسکے، جس سے اس خطے اور پاکستان کو فائد ہو۔

 

اسلام ٹائمز: کیا ایسی صورتحال بھی بن سکتی ہے مجلس وحدت مسلمین وہاں پر اہل سنت لوگوں کو بھی اپنا امیدوار بنائے یا انہیں ٹکٹ دے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: جی امکان ہے کہ ہم انہیں بھی ٹکٹ دیں، اس حوالے سے اہل سنت کے دوست ہم سے رابطہ کر رہے ہیں، ہمارے ٹکٹ پر اہل سنت، اسماعیلی اور نور بخشی بھی آسکیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ایک ایسا اتحاد وجود میں آئے جس میں تمام طبقات موجود ہوں اور ہم سب ملکر الیکشن لڑیں، مذہب کے نام پر یا فرقوں کے نام پر نہیں بلکہ اہلیت اور لیاقت کی بنیاد پر الیکشن لڑیں گے۔ مذہب ایک مقدس چیز ہے، اگر حلقے میں شیعہ شیعہ کے خلاف الیکشن لڑے تو وہاں مذہب کیوں استمال ہو؟، ہم فرقہ یا مذہب کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ ہم لوگوں سے استعداد، لیاقت اور صلاحیت کی بنیاد پر ووٹ مانگیں گے، اگر لوگوں نے ہم اعتماد کیا تو ٹھیک ہے نہیں تو ہم دوبارہ ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ جدوجہد رکھیں گے کہ ان کا اعتماد حاصل ہوسکے اور ہم ان کی خدمت کرسکیں۔

 

اسلام ٹائمز: شام کے الیکشن ہونا اور صدر بشار الاسد کا ایک پار پھر منتخب ہونا، کیسی تبدیلی ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: یہ اہم تبدلی ہے، شام میں الیکشن حقیقت میں تکفیریت اور دہشتگردی کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ 70 فی صد سے زیادہ لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اور بشار الاسد نے 87 فی صد سے زائد ووٹ حاصل کئے۔ چار سالہ دہشتگردی، امریکہ، اسرائیلی اور سعودی عرب کی مداخلت کے باوجود مقاومت کے بلاک نے ثابت کیا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے۔ اس بلاک نے انہیں ہر میدان میں شکست دی ہے، انہوں نے مسلح جدوجہد کی تو اس میں شکست دی، اخلاقی طور پر شکست ہوئی ہے کہ شام کی اکثریت عوام کے دل بشار الاسد کی طرف مبذول ہوئے، قانونی طور پر انہیں شکست ہوئی کہ سکیورٹی کونسل میں وہ کوئی قرار داد پاس نہ کرا سکے۔ میڈیا پر یہ رسوا ہوئے ہیں، اسی طرح انہیں سیاسی شکست ہوئی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی ہے۔ مقاومت کے بلاک نے ثابت کیا ہے وہ ان تمام استکباری قوتوں کے خلاف کھڑا ہوسکتا ہے اور انکا مقابلہ کرسکتا ہے۔ دہشتگرد اور انکے آقا سب مایوس ہیں کہ تین سال جنگ لڑنے باوجود وہ بشار الاسد کو نہ ہٹا سکے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے امریکی وزیر خارجہ لبنان گیا ہوا تھا، جہاں اس نے شام کے معاملے میں حزب اللہ اور ایران سے مدد مانگی ہے، یہ ان کی شکست ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کو عراق میں بھی شکست ہوئی ہے، وہاں لوگوں نے 66 فی صد سے زائد ووٹ کاسٹ کئے۔ عراق کے عوام نے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ دہشتگردوں سے ڈرنے والے نہیں، اس ملک میں بھی دہشتگردی اور دہشتگردی کرانے والے ممالک کو شکست ہوئی ہے۔ جو ممالک عراق اور شام میں آگ لگا رہے ہیں، انہیں بھی یہ آگ اپنی لپیٹ میں لے گی، دنیا مکافات عمل کا نام ہے۔ جب آپ کسی کے گھر میں آگ لگاتے ہیں تو آپ کے بھی گھر میں آگ لگے گی۔ یہ اس سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ مقاومت کا بلاک اتنا مضبوط ہوا ہے کہ چند دن قبل سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب اگر اسرائیل نے کوئی ایڈونچر کیا تو ہم آپ کے علاقے الجلیل پر قبضہ کرلیں گے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیلی پریشان ہیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ وہ دہشتگردی کے ذریعہ مقاومت کے بلاک کو کمزور کریں گے لیکن وہ اور مضبوط ہوگیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree