The Latest

وحدت نیوز(شکارپور) وارثانِ شہداء کمیٹی کے زیر اہتمام شہدائے شکار پور کی نویں برسی کے موقع پر لکھیدر چوک پر عظیم الشان اجتماع مجلس و عزاداری کا اہتمام کیا گیا۔ برسی شہداء کی تقریب سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، صوبائی صدر علامہ سید باقر عباس زیدی ،علامہ مختار احمد امامی ،علامہ مقصود علی ڈومکی، علامہ عبداللہ مطہری ،علامہ سید احمد علی نقوی، ذاکر اھل بیت مولانا منظور حسین سولنگی، مولانا اویس علی نجفی، مولانا سکندر علی دل ،سید رضا عباس شاہ و دیگر نے خطاب کیا۔

کربلا معلیٰ امام بارگاہ شکارپور میں 2015ع کی 30 جنوری کے دن جمع کے نماز کے دوران دہشتگردوں نے خودکش بم دھماکہ کیا تھا، دھماکے کے نتیجے میں 65 نمازی شہید ہوگئے تھے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، برسی شہداء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ شہداء زندہ ہیں اور ان کا پیغام زندہ ہے شہدائے شکار پور کو ہم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خائن ظالم بزدل اور کرپٹ قسم کے لوگ ہم پر مسلط ہیں۔ آج عوام کے حق رائے دہی اور عوام کی امنگوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ایک سال میں 12 ہزار سیاسی کارکن گرفتار کئے گئے۔ ایک کرپٹ خاندان کی سیاسی مخالفت کے جرم میں بے گناہ خواتین کو گرفتار کیا گیا۔

برسی شہداء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کربلا امام بارگاہ کے واقعے کو آج 9 سال مکمل ہو چکے ہیں مگر سندھ حکومت نے وارثانِ شہداء سے کئے گئے اپنے وعدے وفا نہیں کئے، وارثان شہداء آج بھی انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لہذا شہداء کے خون سے انصاف کیا جائے۔ اور زیرو پوائنٹ شکار پور کو شہداء چوک کے عنوان سے منسوب کیا جائے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ سبی میں پی ٹی آئی کی ریلی میں دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس طرح کے بزدلانہ اقدامات سے قوم کے حوصلوں کو پسپا نہیں کیا جا سکتا۔جو طاقتیں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں وہ ملک کے معاشی استحکام کے دشمن ہیں۔جب تک ملک میں شفاف انتخابات کے ذریعے سیاسی استحکام نہیں آ جاتا تب تک ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے۔اسے انتخابات سے دور رکھنے اور پی ٹی آئی کے کارکنان کو خوفزدہ کرنے کا کوئی بھی حربہ اب کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتا۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ پی ٹی آئی کی انتخابی ریلیوں اور کارنر میٹنگز کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات صادر کرے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کا فیصلہ پوری قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جب فیصلے عدل و انصاف کی بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگیں تو معاشرے میں آئین وقانون اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں اور لاقانونیت راج کرتی ہے، عوام کو عدالت کے کسی بھی فیصلے پر مشتعل ہونے کی بجائے ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور عقل و بصیرت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا، اپنی توجہ 8 فروری کے انتخابات پر مرکوز رکھیں۔ ووٹ کی طاقت سے عالمی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے آلہ کاروں کو شکست دیں جو ملک کی داخلی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کو اپنی خواہشات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ آٹھ فروری کے دن پُرعزم ہو کر نکلیں اور جمہوری و سیاسی قدروں کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنا دیں، ملکی سیاست سالہاسال سے ہیجانی و بحرانی کیفیت سے میں مبتلا ہے، اس وقت ملک کے ہر باشعور اور ذمہ دار شہری کا واحد ہدف انتخابات کے روز ووٹ کی بلاتاخیر کاسٹ اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہونا چاہیئے، ہم اس ملک کے پُرامن شہری اور محافظ ہیں، عوام ہی طاقت کا سر چشمہ اور اس ملک کے حقیقی وارث اور مالک ہیں، ان لٹیروں اور وطن فروشوں سے ملک کو بچانے کے لیے اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کریں، ووٹ کی طاقت سے ملکی وقومی ترجیحات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیئے میں ملک بھر کے صوبائی ، ضلعی، یونٹ ، تحصیل کے عہدیداران اور کارکنان کو آمدہ قومی انتخابات کے سلسلے میں پارٹی پالیسی اور انتخابی اتحاد کے سلسلے میں واضح احکامات جاری کردیئے ہیں۔

اعلامیئے میں انہوں نے کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا انتخابی اتحاد آمدہ جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کیساتھ ہوا ہے اور پاکستان بھر میں تحریک انصاف کے نامزد امیدوار ہر دو جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہیں ( سوائے کراچی ، کوئٹہ اور چنیوٹ کے ایک حلقہ کے جہاں تکفیری انتخاب میں حصہ لے رہا ہے )  ہم نے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کو نہ صرف ووٹ دینا ہے۔ بلکہ انکی انتخابی مہم میں بھی ہر ممکن معاونت کرنی ہے ۔پاکستان اور تشیع پاکستان آج کل جن حالات سے گزر رہی ہے اس میں اس انتخابی اتحاد کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ۔مرکز کی انتخابی حکمت عملی پر بھرپور انداز میں عمل کرنے کی تاکید کی جاتی ہے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی اور اس حوالے سے بھرپور انضباطی کاروائی کی جائے گی ۔

خدا وند کریم ہم سب کو مملکت خدادپاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشش کرنے اور اسے حقیقی معنوں میں ایک آزاد ، مستقل،اسلامی اور فلاحی پاکستان بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان نےالیکشنز 2024ء کے لیے اپنا منشور جاری کردیا ہے، جس میں پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی، دفاعی، سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں کے متعلق پالیسی اور لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے، آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی کو بھی منشور کا اہم حصہ قرار دیا ہے، قومی منصوبہ بندی سمیت اظہار رائے کی آزادی، انتخابات، حق رائے دہی اور عدل و انصاف پر مبنی اسلامی معاشرے کے قیام اور اہمیت پر زور دیا گیا ہے، امن وامان کو قائم رکھنا اور شدّت پسندانہ سوچ کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان کے مطابق احتساب اور شفافیت بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، ملک کی برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں نمایاں کمی وقت کی ضرورت ہے، صنعت و تجارت اور زراعت کے شعبے کو بھی ترقی دی جائے گی، توانائی کی پیداوار میں اضافے سے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے گا، انفارمیشن ٹیکنالوجی و دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے روزگار کے مواقع میسر کیئے جائیں گے، خواتین، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی فلاح وبہبود ہماری پالیسی کا حصہ ہیں، اس کے علاوہ انتظامی ڈھانچہ، اقلیتوں کے حقوق، میڈیا، عدلیہ پر بھی بات کی گئی ہے، تعلیم و صحت اور کھیلوں کے میدان بھی آباد کرنا ہمارے منشور کا حصہ ہیں، اولین ترجیح ملک کے اندر روزگار کے وسیع تر مواقع فراہم کیئے جائیں اور ساتھ ہی بیرون ملک روزگار کے لیے بھی ہنر مند افراد کے لیے محفوظ و باوقار مواقع پیدا کئے جائیں گے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل)2018کے قومی انتخابات میں شیعہ ووٹرز نے "تبدیلی "کو ووٹ دیا تھا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مسلم لیگ ن پر کالعدم تنظیموں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات ہیں اس لئے شیعہ ووٹ اس بار بھی ن لیگ کے حصہ میں نہیں آئے گا۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں سے ایک بڑا شہر کراچی ہے جہاں تیس فیصد شیعہ آباد ی ہے مگر ایم کیو ایم نے شیعہ امید واروں کو سیاسی منظر نامہ سے مکمل نظر انداز کیا ہے۔ اس سے ماضی میں ایم کیو ایم اور کالعدم جماعتوں کا تعلق کے شبہ کا تاثر بھی زیادہ گہرا ہوا ہے۔

حالیہ الیکشن میں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے نئے نشان اور آزاد امیدواروں کو اپنا سیاسی مسیحا سمجھتے ہیں، شیعہ ووٹرز بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہے ہیں۔

پاکستان میں شدت پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کے شکار شیعہ مکتب فکر نے انتخابی عمل کی سرگرمی میں اپنی شناخت کے ساتھ حصہ لے کر اُن سیاسی قوتوں کو اسمبلیوں میں جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے جو فرقہ واریت اور شدت پسندوں کا ساتھ دیتی ہیں۔

یہاں سوال یہ بھی ہے کیا واقعی شیعہ مکتب فکر کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے انتخابات کے نتائج پر غیر معمولی اثر ڈال سکتے ہیں؟ بعض مبصرین کے مطابق شیعہ مسلک کا ووٹ ملک بھر میں بکھرا ہوا ہے لہذا الیکشن کے نتائج پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

سیاسی مبصرین کی رائے اپنی جگہ لیکن یہ تو یہ طے ہے کہ شیعہ نسل کشی، متنازعہ بل نے شیعہ مکتب فکر کو یکجا کر دیا ہے اور اب اپنی الگ شناخت کے ساتھ سیاسی میدان میں اترنے کا سیاسی شعور پہلے سے زیادہ بڑھادیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی جنرل سیکرٹر ی ناصر عباس شیرازی کہتے ہیں ملک کی آبادی کا چوتھا حصہ فقہ جعفریہ سے منسلک عوام کا ہے اگر یہ حصہ منظم اور متحد ہوجائے تو پاکستان کی سب سے بڑی پولیٹکل فورس بن سکتی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں دیگر مکاتب فکر کا جائزہ لیں تو سیاسی تقسیم بھی ہے اور غیر منظم بھی ہیں

ان مکاتب فکر میں سب سے بڑی تعداد نوجوان کی ہے،پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت زیادہ سے زیادہ جتنے ووٹ لیتے ہیں وہ تعداد پاکستان کی شیعہ کمیونٹی کے پاس ہیں۔

 پاکستان میں شیعہ ووٹ کا نتائج پر مختلف انداز سے ہوتا ہے مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات تمام سیاسی جماعتوں میں ہیں اس لئے ان کی الگ شناخت ممکن نہیں ہوتی

 لیکن مجلس وحدت مسلمین واحد جماعت ہے جس نے اپنے نام اور شناخت کے ساتھ الگ سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے جبکہ 1988میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد اب تک کسی بھی شیعہ سیاسی جماعت نے ابھی تک نہیں لڑا۔ اسی باعث پاکستان میں ملت تشیع کی سیاسی شناخت نہیں بن سکی۔


بڑے پاور کوری ڈورز میں پارہ چنار،گلگت بلتستان،کوئٹہ میں شیعہ قومی جماعت اپنی شناخت کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں صف اول میں موجود ہے اور سٹیک ہولڈرز میں سے ایک ہے۔گلگت کے الیکشنز، 2013,2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا۔

 پاکستان کے شیعہ ووٹرز میں اب یہ شعور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے کہ ہمارے مسائل اور مفادات سیاسی میدان کو خالی چھوڑ دینے سے حل نہیں ہوسکتے۔

پاکستان میں سیاسی اور مذہبی معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں شعور کی بیداری کیلئے اور شعور کے سیاسی سفر کو آگے لیکر چلنے کیلئے واحد امیدمجلس وحدت مسلمین کی شکل میں نظر آتی ہے  اس سیاسی جدوجہد میں چونکہ علمائے کرام کی بڑی تعداد شامل ہے تو قومی منظر نامہ پہ ایم ڈیبلیو ایم بڑی قومی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں انتخابات میں حصہ لینا کتنا موثر ہوسکتا ہے؟
پاکستان کے شیعہ ووٹرز یہ سمجھتے ہیں کچھ سیاست دان جب دوسری پارٹیوں میں شامل ہوجاتے ہیں تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں مخالف فیصلوں پر اس طرح سے اثر انداز نہیں ہوسکتے اس لیے ان کی الگ شناخت ہونا بھی ضرور ی ہے۔

چند ماہ پہلے جب ایک متنازعہ بل سینٹ سے پاس ہوا تو کوئی بھی سیاسی جماعت آگے بڑھ کر شیعہ موقف کو پیش کرنے کیلئے تیار نہیں تھی اور ایک مسلک کی مرضی کے خلاف بل کو منظو رکیا جارہا تھا جس کو آگے پڑھ کر شیعہ علمائے کرام نے متحد ہوکر روکا اس لئے شیعہ نسل کشی،جبری گمشدگیوں،متنازعہ نصاب تعلیم اور متنازعہ بل جیسے گھمبیر مسائل کے حل کے دوران یہ شعور پہلے سے زیادہ زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کی الگ سیاسی قومی جماعت کا ہونا ضروری ہے۔

حالیہ انتخابات کا جائزہ لیں تو کئی حلقوں میں کالعدم جماعتوں نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر خود کو سیاسی طاقت کے طو رپر مضبوط کیا ہے۔یہ وہ تمام عوامل ہیں جس امر کو یقینی بنانے رہے ہیں تاکہ مخالف سیاسی گروہ کی موجود گی میں اپنی شناخت کے ساتھ بھی میدان سیاست میں رہیں۔

پاکستان کے کونسے علاقوں میں شیعہ ووٹ زیادہ  پُر اثر ہوسکتا ہے؟

ایک جائزہ کے مطابق پنجاب اور سندھ وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ ووٹ پاکستان کی انتخابی سیاست پہ اثر جما جاسکتا ہے کئی حلقوں میں بڑی تعداد میں فیصلہ سازی اور رائے سازی میں بھی پر اثر نظر آتے ہیں۔خیبر اور بلوچستان کے کچھ مخصوص علاقوں میں بھی شیعہ کمیونٹی بااثر سیاسی طاقت دکھائی دیتی ہے لیکن سب سے زیادہ پنجاب میں ملت تشیع کا سیاسی کردار اہم ترین ہوسکتا ہے۔

 اگر ہم پنجاب میں مخصوص حصہ پر مرکوز کریں تو اندرون پنجاب تک کے علاقوں کو شامل کریں تو یہاں پہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سے دو کروڑ شیعہ آبادی موجود ہے جو سیاسی عمل میں اپنے گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔اگر ہم سندھ کی طرف نظر دوڑائیں تو اندرون سندھ میں میں بھی بڑی تعداد موجود ہے اس لحاظ سے اہم ترین ہیں۔کوئٹہ میں پشتون اور بلوچ کے بعد شیعہ ہزارہ کی آبادی سب سے زیادہ تھی مگر شیعہ شناخت پر قتل اور نسل کشی کے بعد وہاں سے لوگوں نے ہجرت کی اور بیرون ملک منتقل ہوگئے۔

۔پاکستان میں پہلی بار ملت تشیع بھرپور انداز سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہے،اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے بھی اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین سے سیاسی اتحاد ہوگا۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شیعہ سیاسی جماعت کسی بڑی سیاسی جماعت کی سیاسی اتحادی ہے اور نہ صرف اتحادی ہے بلکہ ہر مشکل میں ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے۔

گزشتہ دنوں جب تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھن کے بعد پلان بی اور سی کا ذکر ہورہا تھا تو اس میں یہ بھی زیر بحث تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس ایک آپشن یہ بھی ہے کہ وہ قابل اعتبار سیاسی پارٹی مجلس وحدت مسلمین کے انتخابی نشان خیمہ کو بھی امیدواروں کیلئے استعمال کرسکتی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین نے پہلی بار پاکستان کے چاروں صوبوں میں اپنے میدان سیاست میں اتارے ہیں.

 اگرچہ مجھے کوئی زیادہ کامیابی کی توقع نہیں ہے لیکن قیام پاکستان سے اب تک یہ پہلا موقع ہے جب شیعہ سیاسی جماعت منظم انداز میں سیاسی عمل میں شامل ہے اگر8فروری کو مجلس وحدت مسلمین اپنی شناخت کے ساتھ کامیابی حاصل نہ بھی کرسکے تو زیادہ مایوس کن نہیں ہوگا کیونکہ سیاسی عمل میں اترنا ہی کامیابی ہے جس کی کمی کئی سالوں سے محسوس کی جارہی تھی۔

تحریر: توقیر کھرل

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 230 پر تکفیری جماعت کے سرغنہ کے مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار آغا رفیع اللہ کی حمایت کا اعلان کر دیا

مجلس وحدت مسلمین کے پولیٹیکل سیکریٹری علامہ مبشر حسن نے ابراہیم حیدری جلسے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ۔

مجلس وحدت مسلمین کے وفد کی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار آغا رفیع اللہ سے ملاقات ۔ وفدنے 8 فروری کے قومی انتخابات میں NA-230 پر ان کی حمایت کا اعلان کردیا۔

عید گاہ گراؤنڈ ابراہیم حیدری میں منعقدہ انتخابی جلسے میں پی پی پی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے مجلس وحدت مسلمین کی حمایت پر وفد کا شکریہ ادا کیا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پارٹی کارکنوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں منعقد ہونے والے ورکرز کنونشن میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں، صوبائی قیادت اور نامزد امیدواروں نے خطاب کیا۔

 اس موقع پر نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین پر مشتمل کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 42 میں مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار علامہ علی حسنین حسینی، قومی اسمبلی کے امیدوار ارباب لیاقت علی ہزارہ، قومی اسمبلی کے امیدوار جعفر علی جعفری اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 40 کے امیدوار سید عباس موسوی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن سے متعلق اپنا منشور کارکنوں کے سامنے پیش کیا۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرنا معاشرے کے ہر فرد پر فرض ہے۔ بلوچستان اور پاکستان ہمارا گھر ہے۔ جسے بدعنوان اور کرپٹ عناصر سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ فاسق اور بے ایمان افراد کو ملک و قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی دلیرانہ و رہبرانہ صلاحیت اور سیاسی بصیرت پر اعتماد ہے۔ انکے وژن کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء و امیدوار پی بی 42 علامہ علی حسنین حسینی نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس نے عوامی حلقوں میں رہ کر بلا تفریق رنگ و نسل عوام کی خدمت کی ہے۔ مستقبل میں بھی عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ عوام 8 فروری کو خیمہ کے انتخابی نشان پر مہر لگا کر ہمیں کامیاب بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علمدار روڈ کے علاقے محلہ علی آباد کے عمائدین سے کارنر میٹنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں علی آباد کے بزرگوں اور جوانوں نے درجنوں کی تعداد میں شرکت کی اور مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی نائب صدر علامہ ولایت حسین جعفری، قومی اسمبلی کے امیدوار ارباب لیاقت علی ہزارہ، ضلعی و صوبائی کابینہ اراکین اور پارٹی کارکن بھی میٹنگ میں موجود تھے۔

علامہ علی حسنین نے اس موقع پر کہا کہ نوجوان نسل باشعور ہے۔ جنکی بڑی تعداد مختلف کارنر میٹنگ میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر رہی ہے۔ نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں باہنر بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ماضی کی حکومتوں نے سستی سے کام لیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں جاکر بلوچستان بلخصوص کوئٹہ کے نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔ ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے کہا کہ ہم تعلیم، روزگار اور صحت کا نعرہ لے کر نکلے ہیں۔ یہ وہ بنیادی حقوق ہیں، جن سے حلقے کے عوام کو محروم رکھا گیا ہے۔ ان حقوق کو عوام تک پہنچانے کے لئے نمائندگی ضروری ہے۔


 انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گھیر جماعت ہے۔ جس نے ماضی میں ملک کے ہر شہر میں بلا کسی تفریق کے عوام کی خدمت کی ہے۔ ہمارا شعار یہی ہے کہ عوامی حلقوں میں موجود رہ کر بلا تفریق رنگ و نسل عوام کی خدمت کی جائے۔ آٹھ فروری کو عوام کے ووٹوں کی بدولت عوام کی نمائندگی حاصل کریں گے۔ انہوں نے علاقہ مکینوں سے کہا کہ وہ مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں کے بازو بن کر عوام تک ایم ڈبلیو ایم کا پیغام پہنچائے، تاکہ عوام خیمہ کے انتخابی نشان پر مہر لگا کر انہیں کامیاب بنائیں۔

وحدت نیوز(جھل مگسی) مجلس وحدت مسلمین ضلع جھل مگسی کے زیراہتمام مسجد اقصیٰ حسینی محلہ میں ولادت باسعادت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ع کی مناسبت سے 13 رجب کو محفل جشن کا انعقاد کیا گیا۔ محفل جشن میں مولود کعبہ حضرت امام علی ع کے شان میں قصیدے پڑھے گئے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری سہیل اکبر شیرازی اور مولانا امیر حسین جسکانی نے آخر میں حضرت امام علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کئے۔

 انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی حیات طیبہ مسلمانان عالم کے لئے نمونہ عمل ہے۔ ہم سب کو چاہیئے کہ ہم اس کو اپنائیں۔ امام علی دنیا اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں، جن کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ خدا تعالیٰ اور پیغمبر اکرم پر ایمان رکھنے والوں کے لئے 13 رجب المرجب کا دن بہت بڑی خوشی کا دن ہے، کیونکہ اس دن نفس رسول امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ امام علی علیہ السلام کی شان میں قرآن مجید میں سینکڑوں آیات نازل ہوئی ہیں۔ اسی طرح پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔

Page 10 of 1437

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree