ترک اسرائیل تعلقات تاریخ کے آئینے میں

18 فروری 2020

وحدت نیوز (آرٹیکل) ابھی تک بھی ترکی سے خیر کی توقع رکھنے والے اور فلسطین کی آزادی کے لئے اس سے امیدیں لگائے بیٹھے قارئین کے لئے چند ایک تاریخی حقائق پیش کر رہے ہیں. تاکہ وہ مخصوص میڈیا کی پروپیگنڈہ مہم اور بین الاقوامی حالات سے بے خبر رہنے والے سیاستدانوں کے دھوکے میں نہ رہیں. رجب طیب اردوان کہتا ہے کہ " وہ ہمیشہ کے لئے فلسطین کا دفاع کرے گا جیسے سلطان عبدالحمید نے دفاع کیا تھا "حالانکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اس وقت اگر سلطان عبدالحمید یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین کی طرف ھجرت کی اجازت نہ دیتا اور سہولت کار نہ بنتا اور مالی امداد نہ کرتا تو آج اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔

ترکی نے فلسطین کی سرزمین پر قائم ہونے والی صیہونی ریاست اسرائیل کو قائم ہونے  کے ایک سال بعد مارچ 1949 میں ہی رسمی طور پر قبول کر لیا تھا.

1957 میں پہلا اسلامی ملک ترکی ہی تھا کہ جس نے اسرائیل کے سربراہ بن غوریون کا اپنی سرزمین پر استقبال کیا. 1958 میں اسرائیل کے وزیراعظم  ڈیوڈ بن غوریون اور ترکی وزیراعظم عدنان مندریس کے مابین انتہاء پسندی اور مشرق وسطی میں روسی نفوذ کا مقابلہ کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے.


1986 میں ترکی نے اپنے سفارتکار تل ابیب ، اسرائیل میں تعینات کئے. اور 1991 میں دونوں ممالک کے مابین سفراء کی سطح کے تعلقات قائم ہوئے. اگست 1996 میں دونوں ملکوں کے مابین عسکری تعاون کے معاہدے ہوئے. جس کے تحت مشترکہ بری ، بحری  اور فضائی فوجی مشقیں اور ڈائیلاگ وغیرہ شامل ہیں.

ترکی اسرائیل ساخت اسلحہ کا خریدار بھی ہے جن میں جنگی جہاز ، ٹینک اور توپخانے شامل ہیں.

یکم جنوری 2000 میں ترکی اور اسرائیل کے مابین ڈیوٹی فری تجارت کا معاہدہ طے پایا.

اردوان کا دور حکومت اور ترک اسرائیل تعلقات

جب اردوان کی پارٹی حزب عدالت وترقی نے نومبر 2002 کو اقتدار حاصل کیا. تو اردوان نے فورا امریکہ کا سفر کیا وہاں یہودی لابی اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور تعلقات استوار کئے اور انہیں اعتماد میں لیا. بالخصوص ان سے ملا جو اکثر یہودی تھے. کہ جن میں  بول وولویٹز ، ورچرڈ بیرل نائب وزیر دفاع شامل ہیں .

مارچ 2003 میں جب عراق پر امریکہ نے قبضہ کیا تو ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان  نے پوری کوشش کی کہ امریکہ کے ساتھ ملکر عراق میں مداخلت کرے لیکن ترکی پارلیمنٹ نے انکار کردیا.

جون 2004 کو مشرق وسطیٰ کے وسیع البنیاد امریکی  منصوبے کے سربراہی اجلاس میں اردوان نے شرکت کی. اور امریکہ وترکی کے باھمی تعاون سے خطے کا نیا روڈ میپ بنانے پر تعاون وہمکاری اور ترکی کی حزب عدالت وترقی کی حکومت کو ایک اسلامی ڈیموکریٹک لیبرل نظام بطور نمونہ خطے میں متعارف کروانے کی کوشش پر اتفاق ہوا.

25 جنوری 2004 امریکی یہودی کانفرنس تنظیم AJC نے اسے تمغہ شجاعت سے نوازا گیا .  اس کے بعد اردوان کے یہودی لابی کے تمام اداروں سے تعلقات بڑھنے لگے.

مئی 2005 کو اردوان نے اسرائیل کا دورہ کیا. اور اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے انکا بڑا پر تپاک استقبال کرتے ہوئے کہا " اسرائیل کے ابدی دارالحکومت قدس شہر میں خوش آمدید " اردوان نے جب اس بات پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا تو اسے اپنے سابق سربراہ نجم الدین اربکان کی سخت  تنقید کا سامنا کرنا پڑا.  " جس نے اس پر امریکہ ویہودی لابی اور عالمی صہیونیت کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگایا "

10 جون 2005 کو امریکی یہودی ادارے ADL نے بھی اردوان کو نشان شجاعت سیاسی کا تمغہ عطا کیا.  

15 فروری 2006 کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے انقرہ کا دورہ کیا. اردوان نے بذات خود امریکا اور اسرائیل کے ڈر سے اس سے ملنے سے اجتناب کیا. اس وقت کے وزیر خارجہ عبداللہ گل نے وزارت خارجہ آفس کی بجائے اپنی پارٹی کے دفتر میں اس سے ملاقات کی. اور اسے نصیحت کی کہ اسرائیل کے خلاف عسکری عمل کو ترک کر دیں.  اور یہ دور حماس کی فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کا تھا.

13 نومبر 2007 کو اسرائیل کے صدر پیریز کو ترکی کے دورے کی دعوت دی. اور یہ پہلا اسرائیلی صدر تھا کہ جس نے ترک پارلیمنٹ سے خطاب کیا.

اردوان نے دمشق اور تل ابیب کے مابین تعلقات قائم کرانے اور شدت کو کم کرنے کے لئے کوششیں کیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم اولمرٹ نے اسے دھوکا دیا اور 27 دسمبر 2008 کو غزہ کے خلاف جنگ شروع کر دی.

2009 کو ترکی نے اسرائیل کی کمپنی کو شام ترکی سرحدی علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا ٹھیکہ دیا.

پھر 31 مئی 2010 کو اسرائیل نے اہل غزہ کی امدادی سامان لانے والے سفینہ مرمرہ پر بھی حملہ کر دیا. اور 10 ترکی باشندے بھی مارے گئے.  جس سے ترکی واسرائیل کے تعلقات خراب ہوئے.  

امریکی صدر اوباما نے 22 مارچ 2013 کے اسرائیلی دورے کے وقت اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو راضی کیا کہ وہ اردوان کو فون کرے. اور مرمرہ سفینے پر حملے کرنے کی معذرت بھی کرے.

معذرت کے بعد دونوں اطراف نے آپس میں مل بیٹھ کر مسئلے کو رفع دفع کیا. 10 اپریل 2016 کو اسرائیل نے کہا کہ جن خاندانوں کا جانی نقصان ہوا ہم اسکی تعویض یا خون بہا نہیں بلکہ فقط 20 ملین ڈالرز مالی امداد دیں گے. جس کے مقابل میں اسرائیل کے خلاف جتنے بین الاقوامی عدالتوں میں کیسز ہیں وہ واپس لینے ہونگے.  

اسرائیل اور ترکی کا سال 2018 میں تجارتی حجم تقریبا 6 ارب ڈالرز پہنچ چکا تھا. اور اس سال تین لاکھ بیس ھزار اسرائیل باشندوں نے سیاحت کے عنوان پر ترکی کا سفر بھی کیا.

ترکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی صدر کے فرزند براق اردوان کے بحری جہاز ترکی سے سامان اور عراق کرد علاقوں کا پٹرول اسرائیل منتقل کرتے ہیں.  اور اسرائیل کے زرعی بیج اور مصنوعات بھی ترکی کی منڈی میں بکتے ہیں.  

9 مئی 2018 کو انقرہ میں قائم اسرائیلی سفارتخانے میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال پورے ہونے کا جشن منایا جس میں ترک وزیر خارجہ سمیت اعلی ترک حکام نے شرکت کی.

داعش کے سوریہ کے علاقوں سے نکالے جانے والے پٹرول کا خریدار اور بلیک مارکیٹ میں بیچنے والا بھی ترکی ہے.

جب عرب بہار کے نام پر خطے میں اسرائیل کی خاطر حالات خراب کئے گئے اور جنگیں مسلط کی گئیں. تاکہ سوریہ ، ایران اور حزب اللہ اور فلسطینی مقاومت کو کچلا جا سکے. تو امریکہ کی سرپرستی میں جو اتحاد تشکیل پائے اور اس میں فرانس ، برطانیہ سمیت یورپی ممالک اور خطے کے ممالک میں سعودی عرب ، قطر ، امارات ، اسرائیل اور سرفہرست ترکی تھا. اور خطے کی تباہی وبربادی میں اور بے گناہ  انسانوں کے قتل عام میں ترکی کا بنیادی کردار رہا ہے. اور سب سے زیادہ تکفیری دھشتگرد ترکی کے ذریعے عراق وشام میں وارد ہوئے.  اور ٹریننگ واسلحہ کی سپلائی بھی ترکی کے ذریعے ہوئی.

جاری ہے ۔۔۔۔۔


تحریر: علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree