The Latest

drmaliشہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی (رہ) وہ شہید بزرگوار ہیں جنہوں نے گفتگو کے ذریعے نہیں بلکہ کردار اور افکار کے ذریعے ہماری تربیت کی۔ شہید ڈاکٹر کی حیات سے ہم نے جہد مسلسل کا درس لیا۔ زندگی کے ہر ہر لمحے کو راہ خدا و راہ امام زمان (عج) میں صرف کرنے کا سبق، مولا امام زمان (عج) کے جلد ظہور کی زمینہ سازی کیلئے لمحہ بہ لمحہ جدوجہد کرنے کا سبق حاصل کیا۔ ولی فقیہ کی سرپرستی میں، ماضی میں امام خمینی ﴿رہ﴾ کی سرپرستی میں اور آج اپنے زمانے کے ولی فقیہ و نائب امام زمان ﴿عج﴾ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرپرستی میں، اطاعت و پیروی میں، ان کی اتباع کرتے ہوئے، ہر لمحہ اپنے آپ کو دین اسلام، راہ سیدالشہداء امام حسین علیہ اسلام میں مسلسل کوشش کرنا، یہ وہ درس ہے جو شہید ڈاکٹر کی حیات سے حاصل کیا۔ ہر وہ شخص جو ان سے مانوس تھا، ان کے قریب تھا اور یہ جذبہ و ایمان شہید ڈاکٹر نے ہمارے اندر پیدا کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی شہادت کو گزرے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے ہیں، لیکن راہ خدا میں ان کی اخلاص پر مبنی مسلسل جدوجہد، ان کا ایمان و یقین، آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، نمونہ عمل ہے۔ آج تک ہم شہید ڈاکٹر کی حیات طیبہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر لمحے اسی راستے کے راہی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

mwm.press abbastownمجلس و حدت مسلمین کے سر براہ علامہ ناصر عباس جعفری،علام حسن ظفر نقوی،علامہ صادق رضا تقوی،علامہ حیدر عباس،علامہباقر زیدی،علامہ عقیل موسیٰ،علامہ علی انور،اصغرزیدی سمیتدیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صحافی برادری نے مظلوموں کا ساتھ دینے کا وعدہ پوری طرح نبھایا، شہادتوں کے سفر میں صحافی برادری ہمارے ساتھ ساتھ ہے اور اس کاثبوت کتنے ہی صحافی برادران کی شہادت ہے جن کا خون ہمارے خون میں شامل ہے سیاسی جماعتیں اپنے الیکشن کی تیاریاں کرنے میں لگی ہوئی ہیں، اور عباس ٹاؤن کے ایشو کو کوئی ٹرین میں بیٹھ کو حل کررہا ہے اور کوئی چار گھنٹے کی ہڑتال کے ذریعے حل کررہا ہے، ہم ان سب سیاستدانوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اب پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام ان کے ان تمام ہتھکنڈوں سے واقف ہوچکے ہیں، کراچی میں صرف عباس ٹاؤن ہی نہیں ہر علاقے میں چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، اور دوسری طرف بعض سیاسی پارٹیاں دہشت گردوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا کھیل رہی ہیں خاص طور پر پنجاب میں علیٰ اعلان دہشت گردوں کو اپنی پارٹیوں میں سیاسی پناہ دے رہے ہیں اور اس کے بعد ہم اپنی اہلسنت برادری اور ان کے علماء کو تعزیت پیش کرتے ہیں کہ وہ بھی شہادتوں کے سفر میں ہمارے برابر کے شریک ہیں۔

mlfand mwmپاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) اور مجلس وحدت مسلمین نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ سانحہ عباس ٹاون حکومت کی نااہلی ہے اور کراچی میں قتل و غارت گری روکنا ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کرے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کراچی ڈویژن کے صدر پیرزادہ یاسر سائیں، کامران ٹیسوری، سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین سندھ علامہ مختار امامی، سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن علامہ سید صادق رضا تقوی نے مسجد و امام بارگاہ شاہ خراسان، سولجر بازار کراچی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے وفد نے پیر صاحب پگارا کی جانب سے سانحہ عباس ٹاون کے 50 سے زائد شہداء کی تعزیت پیش کی۔ اس کے موقع پر جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ سید تصور حسین رضوی، مسلم لیگ فنکشنل کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری اعجاز سومرو، ظہیر عثمانی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماء مولانا احمد اقبال اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد علی جعفری بھی موجود تھے۔

لیگی رہنماء پیرزادہ یاسر سائیں نے کہا کہ پیر صاحب پگارا نے کہا ہے کہ سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرین خود کو اکیلا نہ سمجھیں، پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ عباس ٹاؤن میں ملوث دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔ پیرزادہ یاسر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف امت مسلمہ کو متحد ہو کر جنگ لڑنی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد ملک کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما اور معروف صنعتکار کامران ٹیسوری نے کہا کہ فنکشنل لیگ قومی و صوبائی اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرین کی بحالی کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے اور ان کی نقل مکانی کو روکا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر گھر بنا کر دیئے جائیں اور معاوضہ ادا کیا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا مختار امامی نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور صرف بیانات تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد اداروں کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تدفین کے بعد واپس آنے والے افراد پر رینجرز کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دو افراد شہید اور 18 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مولانا مختار امامی نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مولانا مختار امامی نے کہا کہ 24 مارچ 2013ء کو مجلس وحدت مسلمین کے تحت حیدرآباد میں دہشت گردی اور مزارات پر حملے کے خلاف جلسہ کریں گے۔

hawzah012حوزہ علمیہ قم المقدس میں مراجع عظام کی جانب سے ہفتے کے دن سانحہ کوئٹہ اور سانحہ عباس ٹاون کراچی کے سوگ میں مکمل چھٹی ہوگی جبکہ اس سانحے کے شہدا کے لئے تمام مجتہدین کرام کیجانب سے ایک تعزیتی و احتجاجی جلسہ قم میں روضہ حضرت معصومہ ؑ کی مسجد اعظم میں منعقد کیا جائے گا مجتہدین کرام نے گذشتہ روز اپنے درس کے دوران ان سانحات پر شدید رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کہ کہ سامراج امت مسلمہ میں تفرقہ کی پوری کوشش کر رہا ہے لہذا امت مسلمہ ہشیار رہے مجتہدین کرام کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی میں مسلسل اہل تشیع کا قتل عام کی روکتھام کے لئے حکومت پاکستان اور ذمہ داروں کوفوری اور دیرپا قسم کے اقدامات کرنے چاہیں،مجتہدین کرام نے عالمی انسانی ضمیر اور عالم اسلام خاص کر پاکستانی حکومت پر حالیہ دہشگردانہ واقعات کے مقابلے میں ضروری اقدامات نہ کرنے اور خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا

abbastown.rajaسانحہ عباس ٹاؤن مجلس و حدت مسلمین کا مرکزی وفد کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سر براہی میں مرکزی وفد کا دورہ

خون کے آخری قطرے تک دہشت گردوں کے مقابلے پر دٹے رہیں گے ،شیعہ اور سنی مل کر ہی پاکستان کو ان دہشت گردوں سے نجاد دلائیں گے،سانحہ عباس ٹاؤن شہدا ء کے سوئم کے موقع پر نامعلوم دہشت گردوں کا شہر کے حالات خراب کرنا قابل مذمت ہے ۔سانحہ عباس ٹاؤن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہیدہشت گردوں کے خلاف پاکستانی عوام کو متحد نا پڑے گا۔کوئٹہ سے کراچی تک ایم ڈبلیو ایم کاامدادی سلسلہ بلا تفریق جاری ہے اور شہداء اور زخمیوں کی امدادکا سلسلہ جاری رہے گا۔پورے ملک میں دہشت گردوں کی کمر توڑنا ہوگی سانحہ عباس ٹاؤن دہشت گردی ہے فرقہ واریت نہیں چند مٹھی بھر دہشت گردوں نے ملک امن کو تہو بالا کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کے سر برا ہ علامہ ناصر عباس جعفری نے عباس ٹاؤن کے دورہ پر مجلس و حدت مسلمین کی جانب سے لگائے جانے والے المہدی ریلیف کیمپ اور سانحہ میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثہ سے ملاقات کے بعد کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا

DSCN4138سانحہ عباس ٹان کے حوالے سے علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ یہ المناک سانحہ ہے اس سانحہ میں چند ماہ کے بچے شہید ہوئے ہیں جوانوں سمیت خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد اس میں وموفود ہے ۔کراچی میںیہ کوئی پہلی دہشت گردی کی کاروائی نہیں ہے اس سے قبل بھی ایک سکیورٹی ادارے کے دفتر پر ایسا ہی شدید حملہ ہوا تھا اسکلوسف پھٹ چکا ہے ۔اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سیاست دان ناکام اور حکومت ناکام ہو چکے ہیں ۔پانچ سال حکومت کرنے کے بعد اب ہمارے دوست کہتے ہیں کہ ماہ میں کیئر ٹیکر حکومت حالات ٹھیک کریجو پانچ سال میں ٹھیک نہ کر سکے ۔حکومت میں کم سے کم اتنی حیا ہوتی کے گورنر استعفی دیتے ،وزیر اعلی استعفی دیتے ،آئی جی کو اور ڈی جی رینجزر کو ہٹاتے ۔اقتدار میں آنے کے بعد ملکی سیاسی جماعتوں سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے(پولیس و رینجرز) ملک کو لوٹ رہے ہیں کھا رہے ہیں ۔ 
صحافی کا کہنا تھا کیا وزیر اعلی سندھ میں اتنی حمت ہے کہ وہ ڈی جی ریجرز کو ہٹا سکے۔۔۔
یہاں تو حکمران بے حسی کی چادر اوٹھے ہوئے ہیں اتنے بڑے سانحہ ہونے کہ بعد ان بے حسوں میں اتنی اخلاقی جئرت نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جاتے ،انھوں نے حکومت اور فیدرل مینسٹر رحمان ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک وفاقی و زیر داخلہ نہیں بلکہ وزیر اطلاعات کے کام انجام دیتے ہیں وہ دھماکوں کی پیشگی اطلاع تو دیتے ہیں مگر دہشت گردوں کے خلاف کو ئی کاروائی نہیں کرتے ہیں سانحہ کے بعد ان حکمرانوں میں اتن جئرت ہونی چاہیے تھی کہ آئی جی سندھ کو ہٹاتے ڈی جی رینجرز کو ہٹاتے یہ تمام ناکام ہوچکے ہیں ۔۔
ان اس کا ایک حل ہے یا فوج کراچی میں آئے اور پورے ملک میں ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے کالعدم جماعتوں اور وہ دہشت گرد جو باڈر کے ٹھرٹ کو ہمارے ملک میں لیکر آگئے ہیں اور کم از کم ہمارے جرنیلوں کو جو اس ملک کے سپاہ سالار سمجھے جاتے ہیں بلخصوص آرمی چیف صاحب جن کی ذمہ داری ملک کی حفاظت ہے آخر وہ کب آنکھیں کولیں گے کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں۔۔
صحافی نے پوچھا کہ وہ بھی کہتے ہیں کے میں آئین اور قانون کا پابند ہوں ۔علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کے کا کیا آئین کا آرٹیکل 245اس میں موجود نہیں ہے۔ وہ سویلیئنایڈمنسٹرییشن کہے گی تو ۔۔۔
سولیئن ایڈمنسٹریشن اگر پریشردے کر بہت سے کام کروا سکتی ہے تو ملک بچانے کیلئے یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہ آپ نے بڑی اہم بات کی ہے ۔صحافی نے مخاطب کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا سانحہ کراچی ایک بڑی خونریزی کا نکتہ آغاذ ہے؟
علامہ ناصر عباس نے کہا کے اگر جوفوج آٹی ہے اور across the board آپریشن کرتی ہے اور ان ایجنسیوں کو جن کے اندر کالی بھیڑوں کا سفایا بھی کیا جانا چاہیے ۔کیونکہ ان اداروں میں بھی غیر ملکی ایجنسیوں کا نفوز برھتا جا رہا ہے جس کی واضح مثال کامرہ بیس ،مہران بیس اور پاکستان نے وی میں موجودغیر ملکی اجنسیوں کو سپورٹ کرنے والے دہشت گرد موجود ہیں اوراس میں سر پہرست انڈیا کی ایجنسی اور دوسرے پاکستان دشمن ممالک طاقتوں کا نفوذ بڑھ گیا ہے کہ وہ پورے ملک کو آپریٹ کررہے ہیں ۔ہمارے جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے ہماراپوری دنیا میں مذاق اٹھایا جاتا ہے۔سانحہ عباس ٹان طرف دوبارہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ پر لوگوں کے دل ذخمی ہیں لہذا اب کم از کم اتنا ہونا چاہیے کے وزیر اعلی سندھ ،گورنر سندھ،ڈیجی رینجرز،آئی جی سندھ کو ہٹایا جائیاور انہیں ہٹانے کے بعد ایسے لوگ لائے جائیں جن کم از کم انسانیت ہو وہ عوام کے درد کو محسوس کر سکیں اور دہشت گردی کے خلاف جئرت مندانہ اقدامات کر سکیں ۔۔۔۔
صحافی !حکومت نا اہل ،خفیہ ادارے ناکام عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اقدامات نہیں ہوسکتے تو پھر امن لشکر بنا چاہیے اگردہشت گردی کے خلاف فاٹا کے علاقے میں امن لشکر بنائے جاتے ہیں تو دہشت گرد پورے ملک کو قزیرستان فاتا بنا رہے ہیں لہذا امن لشکر بنے چاہیے پاکستانی عوام خود اٹھیں اگر حکومت نے ہوش کے ناخن لے ایسے اقدامات نہیں کیئے تو مجبورن پورے پاکستانیوں کو ملک بچانے کیلئے خود باہر نکلنا پڑے گا۔یہ ہماری مادر وطن ہے۔یہ کسی جنرل کا پاکستان نہیں ہے ،یہ کسی سیاسی لیڈر ان کا پاکستان نہیں ہے،ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں امریکہ حملے کرتا ہے اور ہمارے وطن کی غیرت کہاں گئی ہے۔
صحافی !کیا الیکشن سے پہلے منڈلاتے خطرات سچ ہورہے ہیں؟
کیا فرقہ واریت کی آڑ میں ہونے والی دہشگردی کے پیچھے کیا ایجنڈا ہے؟
پاکستان کا نظام حکومت اتنا کمزار ہے کہ یہاں دہشت گرد بکتے ہیں ،خودکش حملہ ور ،ٹارگٹ کلر ،یہاں پیسوں میں خریدے جاتے ہیں انہیں انڈیہا بھی استعمال کر سکتا ہے ہے انھیں امریکہ و اسرائیل بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ہر وہ طاقت جو اس ملک کی دشمن ہوں ایسے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں پڑھتی ملکی سالمیت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے ایسی کاروائیاں کی جاتی ہیں ۔۔کراچی میں قتل و غارت کا تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی سے ہیاس ریجن میں جب سے امریکہ آیا ہے کہ یہاں کبھی سکھ چین پاکستانی عوام نے نہیں دیکھا دنیا میں جہاں بھی امریکہ آیا وہاں کے حالات یکسر خراب ہوئے ۔لیکن ہم اس بات سے یہ نہیں کہہ سکتے کے ہم اپنے اداروں کے ذریعہ ہی ان کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے اداروں میں سے کالی بھیڑوں کا سفایا کرنا ہے اپنے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہیں اداروں میں امریکہ کے خلاف کھلے تصادم کی بھی صورت نہیں لانی بلکہ ان کو مضبوط بنانا ہے میں پھر کہوں گاکہ یہ ملک کسی جنرل،سیاست دان کا نہیں اور یہ وقت ہے کہ ہماری عوام اٹھ کڑے ہونا ہوگا سول سوسائٹی کو ایسے اٹھنا ہو گا جیسے چیف جسٹس کو بھال کروانے کیلیے اتھے تھے امن کیلئے ملک بچانے کیلئے اور ملک کو ان نااہل حکمرانوں کے ہاتھ سے نکالنے کیلئے اس وقت ملک میں تین قسم کی مافیا ہے ۔سیاسی مافیا ،دہشت گردوں کی مافیا اور سکیورٹی اداروں میں موجودملک دشمن کالعدم دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والی کالی بھڑون کی مافیا۔ان تینوں طاقتیں عالمی استقبار امریکہ اسرائیل اور ملک دمشن قووتقں کے ہاتھوں مسلسل استعمال ہو رہی ہیں ان ہی کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہیں ۔لہذا ضرورت یہ ہے کے محب و طن سیاسی ،مذہبی،سول سوسائٹی،ان دتینوں چیزوں کے خلاف اٹھیں اور چینج لے کر آئیں ۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پانچ سال یہ نالائق حکومتیں یہ توقع رکھتے ہیں کے یہ لوگ پھر سے اپنی حکومت لائیں گیاور میں پاکستان کی عوام سے یہ اپیل کرتا ہوں کے آئندہ الیکشن میں ان کیپیٹل اور نااہل جماعتوں کو ووٹ نہ دیں ۔
اور پوری پاکستانی عوام کو اس جمعہ کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے شہیدو کے خون سے وفا کے طور پر،وطن سے محبت کے طور پر ،قومی عحدت کے طور پر،اس کو منانا چاہیے دہشت گردی کے خالف نفرت کے خلاف منانا چاہیے تاکہ دہشت گرد یہ محسوس کریں کے وہ جو اس ملک میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں عوام میں مایوسی ڈالنا اور مذہبی فرقہ واریت اور نفسہ نفسی پھیلانے میں ناکام ہو چکے ہیں

shehbazshareef phoneملک اور بیرون ملک سے مختلف سیاسی مذہبی سماجی رہنماوں کی جانب سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو سانحہ عباس ٹاون پر تعزیتی پیغامات اور فون کالز موصول ہورہی ہیں جس میں تازہ ترین کال وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے کی گئی ،تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کو ٹیلی فون کیا ہے اور سانحہ عباس ٹاؤن کراچی اور سانحہ کوئٹہ پر شدید غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردانہ کاروائی کی شدید مذمت کی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کاکہنا تھا کہ کراچی دہشتگردوں کے رحم و کرم پر ہے اور سانحہ عباس ٹاؤن میں انسانی جانوں کا زیاں انتہائی افسوس ہے ۔سانحہ عباس ٹاؤن کراچی انسانیت سوز واقعہ ہے ، اس کی پر زور مذمت کر تے ہیں وزیر اعلیٰ کاکہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں اہلیان پنجاب اپنے اہل تشیع بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے گا۔

یہ کیسا موت کا رقص ہے۔۔۔؟

سانحہ عباس ٹاون اور کراچی میں شدید دہشتگردی کے حوالےسے جیوز نیوز سے لیا گیا ایک مضمون

...محمد رفیق مانگٹ...
یہ کیسا موت کا رقص ہے ،ہر انکھ اشک بار،ہر دل غم زدہ ہے،مرنے والے کو نہیں پتہ اسے کیوں مارا گیا،اب درندوں سے خوف نہیں انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔کوئی عدلیہ کی بحالی کے دوران ان سریلے ترانوں کے خالقوں کو آواز دے جو یہ کہتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔۔۔ذرا ان جمہوری سرخیلوں کو بلاوٴ جو جمہوری دور کو دودھ اور شہد کی بہتی نہروں سے تشبیہ د یتے ہیں مگر ان کی طرز حکمرانی نے ملک میں خون کی ندیاں بہا دیں، ملک میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں غیر فطری موت نے دستک نہ دی ہو۔قبرستان آباد ہوگئے،لٹھے کا کاروبار چل نکلا،تابوت بنانے والوں کی چاندی ہوگئی،گورکنوں کے گھر خوشحالی آگئی ہے، مردہ خانے کم پڑ گئے ہیں،گھر ویران اور فلیٹ سستے، مگر قبروں کی قیمتیں چار گنا ہو گئی ہیں۔ کس عزم سے ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مرنے والے بھی ہم،مارنے والے بھی ہم۔پھر انتخابات کا دنگل سجے گا،پھر شعبدہ بازوں کے بازار لگیں گے،پھر خوش کن نعروں کے ساتھ لوگوں کے جذبات سے کھیلا جائے گا،پھر انہیں مستقبل کے روشن کی نوید سنائی جائے گی۔ ذرا ان ان شعبدہ بازوں کے سامنے موت کے اعدادشمار بھی پیش کریں، کہ ان کی شاندار حکمرانی، بہترین پالیسیوں اور اعلیٰ ظرفی نے کتنے قبرستان آباد کر دیے۔ موت برحق ہے لیکن غیر فطری موت کا اختیار شاید درندوں کو بھی نہیں، پھر ہم کس مہذب معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی تھنک ٹینکس اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ملک بھر جاری دہشت گردی واقعات میں2003ء سے2013ء کے درمیان 46500پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں، 2013ء کے ابتدائی دو ماہ میں1350افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، پاکستان میں2013ء میں پر فرقہ واریت کے40سے زائد پرتشدد واقعات میں تین سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔1989سے2013ء کے درمیاں فرقہ واریت کے لگ بھگ2785سے زائد واقعات ہوئے جن میں4450سے زائد افراد لقمہ اجل بنے جب کہ 8700سے زائد زخمی ہوئے۔ ڈرون حملوں سے بھی موت کا جی بھر کھیل کھیلاگیا۔ 2004 ء سے2013ء کے درمیان پاکستانی سرزمین پر364 امریکی ڈرون حملے کیے گئے جن میں3573افراد ہلاک جب کہ1463زخمی ہوئے،ان ہلاکتوں میں197بچے بھی شامل ہیں جب کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا ہے کہ امریکا نے ڈرون حملوں میں4700افراد ہلاک کیے۔ ان میں چند ہلاکتیں یمن کی ہیں باقی تمام کارروائیاں پاک افغان سرحد پر کی گئی۔2001ء سے2013ء تک ڈاکٹروں پر32حملے کئے گئے جن میں 30 سے زائد ڈاکٹر جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔2012ء میں سب سے زیادہ دس جب کہ 2010ء اور2011ء میں پانچ پانچ ڈاکٹروں کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں چار ڈاکٹر وں کو ابدی نیند سلایا گیا۔2001ء سے2013ء کے دروان وکلاء پر13 قاتلانہ حملوں میں35وکلاء جاں بحق اور134زخمی ہوئے۔2007ء میں سب سے زیادہ16وکلاء کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔پاکستان میں92سے زائد صحافیوں کو موت کی نیند سلادیا گیا ۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ بھی بھیانک روپ کے ساتھ جاری ہے۔ رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں 460افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکا رہوئے،ان میں50سے زیادہ تاجر قتل اور زخمی ہوئے۔گزشتہ پانچ برسوں میں کراچی میں لگ بھگ 8ہزار افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے جن میں صرف گزشتہ برس 2300 افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکا ر ہوئے۔رواں برس24فروری تک 8خودکش دھماکوں میں228افراد جاں بحق324 زخمی ہوئے۔2012ء میں39خودکش دھماکوں میں365افراد جاں بحق 607زخمی،2011ء میں41خودکش دھماکوں میں628افراد جاں بحق 1183زخمی،2010ء میں49خودکش دھماکوں میں1167 افراد جاں بحق اور2199زخمی ،2009ء میں76خودکش دھماکوں میں949جاں بحق 2356زخمی،2008ء میں59خودکش دھماکوں میں893جاں بحق 1846زخمی،2007ء میں54خودکش دھماکوں میں765جاں بحق1677زخمی،2006 ء میں7خودکش دھماکوں 161جاں بحق 352زخمی،2005ء میں4خودکش دھماکوں میں84جاں بحق219زخمی،2004ء میں 7خودکش89جاں بحق321زخمی،2003ء میں2خودکش دھماکو ں میں69جاں بحق103زخمی اور2002ء میں ایک خودکش دھماکے میں15افراد جاں بحق اور34زخمی ہوئے۔ یہ تو جانی نقصان کے کچھ اعداد وشمار تھے،معاشی نقصان80ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، سماجی اورنفسیاتی نقصان تو ایک الگ المیہ ہے۔

کیا کسی کو سزا ملی یا کوئی قاتل بھی تختہ دار پر لٹکا یا گیا۔ موت کا بازار گرام کرنے والے کہاں سے آئے کہاں گئے سب خاموش ہیں۔الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ بات بڑھ نہیں پائی۔ انسانوں کے بنائے ہوئے آئین اور قوانین آسمانی کتابیں اور صحیفے نہیں کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا،ان کا احترام شہریوں پر فرض ہے لیکن جو آئین اور قانون انسانی جان کو تحفط نہ دے سکے تو پھر ہم کس چیز کی سلامتی کے ترانے گاتے ہیں،جس ماں کا گوشہ چھن جائے اسے کس وطن کا ترانہ یاد دلاتے ہیں، جس کا گھر اجڑ جائے اسے کس ملک کی سلامتی کی وعید سنائی جاتی ہے،کس جمہوریت کے گُن گائے جاتے ہیں ۔ان قاتلوں اور دہشت گردوں میں سے ملک بھر میں صرف 50کو سر عام پھانسی دی جاتی کراچی،لاہور،پشاور،کوئٹہ اور اسلام آباد میں کسی کھلے مقام پر دس دس افراد کو سرعام تخت دار پر لٹکایا جاتا اور اسے براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تو آج ہزاروں معصوم شہریوں کی جان بچ جاتی، یہ بھی معلوم ہے کہ اس طرح کی پھانسی کا آئین میں کوئی ذکر نہیں،ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کی تنظیمیں وا ویلا مچاتی ہیں، شہریوں اور بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔۔۔ذرا یہ بھی تو بتاوٌ کہ ہر روز جو گاجر مولی کی طرح انسانوں کو کاٹا جا رہا ہے،کیا اس کو ٹی وی نہیں دکھاتا، ایسے دل دوز واقعات کو دیکھ کر ہماری آنکھیں پتھرا چکی ہیں، جب صورت حال انہونی شکل اختیار کر جائے،اور معاملات اور مسائل کا حل مروجہ قانون اور طریقہ کار سے نہ نکل سکیں تو پھر غیر معمولی راستے اپنائے جا سکتے ہیں۔ آپ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے تو پھر قبرستان آباد کرتے جاوٴ۔ انسانی جان سب سے مقدم ہے اگر غیر معمولی اقدام سے ملک میں سکون آسکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ، سپریم کورٹ بھی ایسا حکم دے سکتی ہے.شکریہ جیوز نیوز ویب سائیڈ

supreemcourt01سانحہ عباس ٹاون ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے رینجرز کو بھی شہر میں بدامنی کا برابر ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی سمیت تمام ذمہ داروں کو معطل ہونا چاہیے تھا۔ ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس کی سخت سرزنش کی اور قرار دیا کہ پولیس کے ساتھ رینجرز بھی بدامنی کی برابر کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے ڈی جی رینجرز کو فوری طور پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی ایماندار ہوتا تو سب کو معطل کرکے گرفتار کرچکا ہوتا؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی سمیت سب کو معطل ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے ایس ایس پی ملیر راؤ انور کو فوری معطل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰی کا احترام کرتے ہیں لیکن انہیں کچھ پتہ نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مہلت نہیں دیں گے۔ آج فیصلہ دے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ناکام ہوگئی۔

jumawahdatمجلس وحدت مسلمین ضلع اسلام آباد و راوالپنڈی اور امامیہ اسٹوڈینس آرگنائزیشن کے تحت سانحہ عباس ٹاون کیخلاف جی سکس سے نکالی جانے والی ریلی کے ڈی چوک اسلام آباد پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کر گئی جہاں مقریرین نے تقاریر کی اور شہدا کی یاد میں شمعیں جلائیں گئیں
دھرنے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ آنے والے جمعہ کو جمعہ وحدت کے طور پر منایا جائے جس میں شہدا اور سرزمین وطن کے ساتھ وفا جبکہ دہشگردی کیخلاف نفرت کے نعرے کے ساتھ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالیں جائیں ۔ بعد ازآں رات نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کپیٹل ٹاک شو میں بھی آپ نے جمعہ وحدت کی اپیل کی جسے شرکا اور ہوسٹ نے پسند کرتے ہوئے تائید کی ۔
ڈی چوک میں پریس کانفرنس میں صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جیساکہ آپ کے علم ہے کہ پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے دہشتگردی کا شکا رہے، اور ریاستوں اداروں کی سرپرستی میں دہشتگردوں کی جانب ایک تسلسل کے ساتھ شیعہ نسل کشی کاسلسلہ جاری ہے۔ ضیاء دور آمریت سے پروان چڑھائے گئے ملک دشمن گانگریسی و امریکی دہشتگردوں کے ہاتھوں ابتک20ہزار سے زائد شیعہ علمائے کرام، ڈاکٹرز،انجینئرز، پروفیسرزاور مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے شیعہ مرد و خواتین کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree